بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

مدرسے کے مہتمم کا چندے کے پیسوں سےکاروبارکرنا


سوال

مدرسے کے مہتمم کو لوگ جو چندہ مدرسےاور طلباء  کے نام پر دیتے ہیں،تو کیا مہتمم ان پیسوں سے   کاروبار کرسکتا ہے یا نہیں ،جب کہ اس کی نیت یہ ہوکہ  اس سے مدرسے کی آمدنی میں اضافہ ہو جائے ؟

جواب

واضح رہے کہ  مہتمم کومدرسےیا طلباء کے نام سے جو چندہ دیاجاتا ہے وہ مہتمم کے ہاتھ میں امانت ہوتا ہے،اور اس میں مہتمم کی شرعی حیثیت وکیل کی ہوتی ہے۔چنانچہ وکیل اور امین کے لیے جائز نہیں کہ وہ امانت میں تصرف کرے ۔ نیز جس مقصد  کیلئے لوگوں  سے چندہ وصول کیا جائے اس کو اسی مقصد میں استعمال کرنالازم ہے، اس میں بے جاتصرف  سے اجتناب ضروری ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ  کے مطابق مدرسہ کے پیسے مہتمم کے ہاتھ میں امانت ہیں،  جس سے بنیادی مقصد طلبہ اور مدرسہ کی ضروریات  کی کفالت ہے نہ کہ تجارت۔لہذا مہتمم کیلئے جائز نہیں کہ وہ چندہ  کی رقم سے تجارت کرے،اگرچہ اس میں مدرسے کی منفعت ملحوظِ نظر ہو۔

 

أن المقبوض في يد الوكيل بجهة التوكيل بالبيع والشراء وقبض الدين والعين وقضاء الدين أمانة بمنزلة الوديعة لأن يده نيابة عن الموكل بمنزلة يد المودع فيضمن بما يضمن في الودائع.(بدائع الصنائع،كتاب الوكالۃ،فصل في الوكيلان هل ينفرد أحدهما بالتصرف فيما وكلا به،ج:6، ص:34)

لا یجوز لأحد أن یتصرف في ملک الغیر بلا إذنہ أو وکالۃ منہ أو ولایۃ علیہ ،وإن فعل کان ضامنا.(شرح المجلۃ،لسلیم رستم باز،المادۃ:96:ج:1،ص:61)


فتویٰ نمبر : 5674/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں