بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

امام کو ملی ہوئی زمین کا حکم


سوال

پہلے زمانے میں عرف یہ تھا کہ لوگ مساجد کے  ائمہ وخطباء کو اپنے ذاتی استعمال کے لیے مستقل اور ہمیشہ کے لیے بغیر کسی شرط کے کچھ زمینیں بطور مالکانہ  دیتے تھےجوکہ مسجد کے مصالح کے لیے استعمال نہیں ہوتی تھی بلکہ ائمہ کی ضروریات میں استعمال ہوتی تھیں۔اب اگر وہ زمینیں ایک صدی سے تا حال کسی امام کے قبضے میں ہوں اور وہ ان کو اپنی ملکیت  ہی میں استعمال کررہا ہو تو ایسی زمینوں   کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ واہب(ہبہ دینے والا)موہوب لہ(جس کو ہبہ دے دیا  ہو)کو کوئی چیز ہبہ کردے تو اس پر موہوب لہ کی ملکیت تب ثابت ہوگی جب  موہوب لہ  اس شئی موہوب پر قبضہ کرے اور اس سے واہب اپنا قبضہ اور تصرف ختم کردے اس سے وہ چیز موہوب لہ کی ملکیت ہوجائے گی اور اس سے واہب کی ملکیت ختم ہوجائے گی۔

صورت مسئولہ کے مطابق   اگر   مسجدکے  پیش  امام  کو زمین  ہبہ کردی گئی ہو تو ایسی زمین میں امام ہر قسم کے تصرف کرنے کا اختیار رکھتا ہے،لہذا کسی کے لیے ایسی زمین کی  واپسی کا مطالبہ  جائزنہیں۔

 

وإذا ‌مات ‌الواهب فوارثه أجنبي عن العقد إذ هو ما أوجبه وهو مجرد خيار فلا يورث.(البحر الرائق،كتاب الهبة،باب الرجوع فى الهبة،ج:7،ص:497)

والعمرى ‌جائزة للمعمر له حال حياته ولورثته من بعده.(الهداية،كتاب الهبة،باب مايصح رجوعه وما لايصح،ج:3،ص:294)


فتویٰ نمبر : 5557/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں