بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیوی کو کہنا کے میرے اور آپ کے راستے الگ الگ


سوال

اگر شوہر بیوی کو بولے کہ میرے اور آپکے راستےالگ الگ ہیں  جبکہ اس میں نیت طلاق کی نہ ہو بلکہ کچھ معاملات میں اختلاف ہو تو کیا طلاق بائن واقع ہوگی ؟

جواب

واضح رہے کہ کنائی الفاظ کے ساتھ طلاق واقع ہونے کے لیے طلاق کی نیت یا دلالت الحال یعنی مذاکرہ طلاق یا حالت غضب کا ہونا ضروری ہے اگر کنائی الفاظ کے ساتھ نیت یا دلالت الحال یعنی مذاکرہ طلاق یا حالت غضب موجود نہ ہو تو طلاق واقع نہ ہو گی ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر شوہر نے سوال میں مذکور الفاظ بیوی کو کہے ہو ں اور اس سے طلاق کی نیت نہ ہو تو طلاق واقع نہ ہو گی ۔

 

الكنايات لا تطلق بها قضاء إلا بنية أو دلالة الحال. (الدرالمختار على صدرردالمختار ، كتاب الطلاق ، باب الكنايات ، ج:4 ، ص:526 )

وأما الضرب الثاني ‌وهو ‌الكنايات لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة الحال.... والجملة في ذلك أن الأحوال ثلاثة حالة مطلقة وهي حالة الرضا وحالة مذاكرة الطلاق وحالة الغضب. والكنايات ثلاثة أقسام ما يصلح جوابا وردا وما يصلح جوابا لا ردا وما يصلح جوابا وسبا وشتيمة ففي حالة الرضا لا يكون شيء منها طلاقا إلا بالنية فالقول قوله في إنكار النية لما قلنا وفي حالة مذاكرة الطلاق لم يصدق فيما يصلح جوابا ولا يصلح ردا في القضاء وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم ( الهداية ، كتاب الطلاق ، فصل فى الطلاق قبل الدخول ، ج:2 ، ص:390،389)


فتویٰ نمبر : 6778/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں