بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

آن لائن ایپ کے ذریعے پیسے کمانے کی شرعی حیثیت


سوال

ایک ایپ ہےجس میں 30000 ہزار روپے سے اکاؤنٹ بنا دیا جاتا ہے اور یہ رقم قابل واپسی نہیں ہوتی اور پھراس میں دو کام کیے جاتے ہیں ایک یہ  آپ کی لنک کی وجہ سے اگر کوئی شخص اکاؤنٹ بناتا ہے تو آپ کو 18ڈالر ملتے ہیں اور پھر اس کے لنک سے کوئی اکاؤنٹ بناتا ہے تو دونوں کو ڈالر ملتے ہیں اور دوسرا یہ کہ آپ کوکمپنی  روزانہ کے اعتبار کچھ تصاویر بھیجتی ہے مثلاً موبائیل کی یا کسی بھی چیز کی، ان تصاویر  پر کلک کرنے سے 12 ڈالر ملتے ہیں کبھی اس طرح ہوتا ہے کہ اول کلک مکمل کرنے پر 2 اور دوسرے پر اس سے زیادہ اور تیسرے پر اس سے زیادہ ڈالر دیے جاتےہیں۔ اب یہ پوچھنا ہے کہ شرعا اس ایپ کی کیا حیثیت ہے اور اس کی طرف دوسروں کو دعوت دینا شرعا کیسا ہے اس سے حاصل شدہ رقم کی کیا حیثیت ہے جائز ہے یا نہیں؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ ایپ کا جو طریقہ کار بیان کیا گیا ہے وہ شرعاً درست نہیں ۔اس قسم کے ایپ  کوئی حقیقی تجارت  وغیرہ پر مبنی نہیں ہوتے بلکہ زیادہ  سے زیادہ لوگوں سے پیسے بٹورنے کی  غرض سے  نیٹ ورکنگ کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں جولوگوں سے سرمایہ سمیٹ لیتے ہیں اورکچھ وقت تک اعتماد  بنانے کے لیے نفع کے نام سے رقم بھی دیتے ہیں لیکن بالآخر  غائب ہوجاتےہیں، اس لیے ایسے  ایپس   میں انوسٹمنٹ کرنے سے اجتناب لازم ہے۔

 

عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: «ما هذا يا صاحب الطعام؟» قال أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، ‌من ‌غش ‌فليس مني»(صحيح مسلم،كتاب الإيمان،باب قول النبي صلى الله عليه وسلم:"من غشنا فليس منا"،ج:1،ص:99)

عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌لا ‌ضرر ‌ولا ‌ضرار»(سنن ابن ماجه،كتاب الأحكام،باب من بنى في حقه ما يضر بجاره،ج:2،ص:784)


فتویٰ نمبر : 3392/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں