بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
فجر کی نماز میں مسنون قراءت
سوال
فجر کی نماز میں مسنون قراءت کیا ہے ؟کیا جمعہ کے روز فجر کی نماز میں سورۃ سجدہ اور سورۃ منافقون کے علاوہ بھی کوئی اورسورت پڑھی جا سکتی ہے؟
جواب
واضح رہےکہ فجر کی نمازکی قراءت کے سلسلےمیں حضورﷺسے مختلف مقدارمیں پڑھناروایات سے ثابت ہے،بعض روایات میں لمبی سورتیں مثلاًسورہ مؤمنين،بعض روایات میں متوسط سورتیں مثلاًسورہ واقعہ ،جب کہ بعض روایات میں مختصرسورتیں مثلاًسورہ تکویر پڑھنا ثابت ہے۔فقہائے کرام نے ان کومقتدیوں کی حالت پرمحمول کیاہے،کہ امام اپنے مقتدیوں کی حالت اور کیفیت کودیکھ کر اس کے مطابق قراءت میں طول یاقصر کرے چنانچہ کبھی کبھی عذر کی بنا پر معوذتین کی قراءت بھی فرمائی ہے، جیسا کہ کسی خاتون کے بچے کے رونے کی آواز سننے پر معوذتین کی تلاوت کی ، تاہم عام طور پر فجر کی نماز میں ساٹھ(60) سے لے کر سو (100) آیات تک کی قرآت فرمایا کرتے تھے جیسا کہ روایات میں موجود ہے۔
اسی طرح جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورۃ سجدہ اور سورہ دھر کی تلاوت فرماتے تھے اور سورۃ سجدہ اور سورۃ دھر بطور سنت جمعہ کے روز فجر کی نماز میں پڑھنا جائز ہے لیکن اس کو واجب اور ضروری قرار دینا جائز نہیں ہے ، اس کے علاوہ سورتیں بھی پڑھنا جائز ہے ۔
وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قرأ في الصبح بالواقعة، وروي عنه أنه كان يقرأ في الفجر من ستين آية إلى مائة، وروي عنه أنه قرأ: إذا الشمس كورت. (سنن الترمذي،باب ما جاء في القراء في الصبح،ج:1،ص:151، رقم الحديث:306)
عن عبد الله بن السائب قال: صلى لنا النبي صلى الله عليه وسلم الصبح بمكة فاستفتح سورة المؤمنين حتى جاء ذكر موسى وهارون أو ذكر عيسى -محمد بن عباد يشك- أو اختلفوا عليه أخذت النبي صلى الله عليه وسلم سعلة. (الصحيح لمسلم،باب القراءة في الصبح،ج:1۔ص:336، الرقم الحدیث: 455 )
عن أبي برزة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقرأ في الفجر ما بين الستين إلى المائة. (سنن ابن ماجه ،كتاب إقامة الصلاة، والسنة فيها ، باب القراءة في صلاة الفجر ، ج:1 ، ص:263 ، رقم الحديث:818 )
يكره تحريما (تطويل الصلاة) على القوم زائدا على قدر السنة في قراءة وأذكار رضي القوم أو لا لاطلاق الامر بالتخفيف. وفي الشرنبلالية: ظاهر حديث معاذ أنه لا يزيد على صلاة أضعفهم مطلقا، ولذا قال الكمال: إلا لضرورة، وصح أنه عليه الصلاة والسلام قرأ بالمعوذتين في الفجر حين سمع بكاء صبي. (الدرالمختار على صدر ردالمحتار ،كتاب الصلاة ، باب الإمامة ، ج:1 ، ص:564 )
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرأ في الفجر يوم الجمعة {الم تَنْزِيلُ الْكِتَابِ} و {هَلْ أَتَى عَلَى الْأِنْسَانِ} وقد ترك الحنفية إلا النادر منهم هذه السنة ولازم عليها الشافعية إلا القليل. فظن جهلة المذهبين بطلان الصلاة بالفعل والترك فلا ينبغي الترك ولا الملازمة دائما.و للضرورة يقرأ أي سورة شاء لقراءة النبي صلى الله عليه وسلم المعوذتين في الفجر. فلما فرغ قالوا أوجزت قال: "سمعت بكاء صبي فخشيت أن تفتن أمه" كما لو كان مسافرا لأنه صلى الله عليه وسلم قرأ بالمعوذتين في صلاة الفجر في السفر وإذا كثر في سقوط شطر الصلاة ففي تخفيف القراءة أولى "و" يسن "إطالة الأولى في الفجر" اتفاقا للتوارث من لدن رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى يومنا هذا بالثلثين في الأولى والثلث في الثانية استحبابا وإن كثر التفاوت لا بأس به وقوله "فقط" إشارة إلى قول محمد أحب إلي أن يطول الأولى.( مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح ، كتاب الصلاة ، باب شروط الصلاة واركانها ، فصل في سننها ، ص:98 )
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں