بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

باغات کو اجارے پر دینا


سوال

درختوں کا اجارہ کیا حرام ہے یا مکروہ تحریمی؟نیزہم نے اجارے پر باغ لیا ہے اور زمیندار ہم سے متعین رقم وصول کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ کبھی کریٹ کے حساب سے (مثلاًسالانہ سو کریٹ مختلف قسم کے پھلوں کے)یا درختوں کے حساب سے(مثلاًفلاں فلاں قسم کے دس درختوں کے پھل میرے ہوں گے)منافع میں شریک ہوتا ہے کیا یہ جائز ہے؟ اسی طرح اگر آسمانی آفت سے باغ کو نقصان ہوجائے تو زمیندار اکثر نقصان میں شریک ہوتے ہیں لیکن اگر مال سستا ہوجانے کی وجہ سے نقصان ہوتو زمیندار نقصان میں شریک ہونے یا نہ ہونے میں خود مختار ہوتا  ہے کیا یہ جائز ہے؟

جواب

   واضح رہے کہ درختوں کو اجارے پر دینا یا لینا جائز نہیں ۔ سوال میں باغ کو اجارے پر دینےکا جو طریقہ کار بیان کیا گیا ہے وہ شرعاً درست نہیں،  کیونکہ حاصل ہونے والی پیداوار میں کسی ایک فریق کے لیے سو کریٹوں کی تخصیص کرنا یا درختوں کی تخصیص کرنا جائز نہیں اسی طرح   مال  کےسستا ہوجانے کی وجہ سے نقصان ہونے کی صورت میں   زمیندار کا نقصان میں خود مختار ہونا بھی شرعا درست نہیں ۔

باغ کو اجارہ پر لینےکے جواز کی صورت ممکن ہےکہ جس  شخص کو باغ اجارے پر دینا ہے اسی کے ساتھ پہلے درختوں میں مساقاۃ(بٹائی) کا معاملہ اس طور پر کرلیاجائےکہ حاصل ہونے والی پیداوار میں مثلاً ایک حصہ مالک کا اور باقی ننانوے(99)  حصےکام کرنے والےکے لیےمقرر کر لیے جائیں۔  پھر  نئے عقد کے ساتھ  اسی شخص کو باغ کی زمین  متعین اجرت کے ساتھ اجارے پر دی جائے  ، تو ایسی صورت میں  اجارہ کی رو سے  کرایہ دار پر کرایہ لازم ہوگا اور مساقاۃ کی رو سے باغ کا مالک اور مساقاۃ پر لینے والا باغ کے پھلوں میں اپنے اپنے طے شدہ حصے کے حقدار ہوں گے۔اس میں یہ ضروری ہے کہ پہلے مساقاۃ کا عقد کیا جائے اس کےبعداجارہ کا عقد کیا جائے، نیز اگر  باغ  کو نقصان کسی ایسی آفت کی وجہ سے  نقصان ہوگیا جس میں عامل کا کوئی عمل دخل نہ ہومثلاًآسمانی آفت وغیرہ تو ایسی  صورت  اجارہ کی رو سے کرایہ دار پر زمین کا کرایہ لازم ہوگا لیکن مساقاۃ کی رو سے ہر فریق حاصل ہونےوالی پیداور میں اپنے مقررہ حصے میں نقصان برداشت کرےگاکوئی  بھی فریق کسی دوسرے کے نقصان کا ضامن نہیں ہوگا۔

 

لا تجوز إجارة الشجر والكرم للثمر؛ لأن الثمر عين والإجارة بيع المنفعة لا بيع العين.(بدائع الصنائع، كتاب الإجارة،ج:4،ص:175)

إذا شرط لأحدهما زرع موضع معين أفضى ذلك إلى قطع الشركة، لأنه لعله لا يخرج إلا من ذلك الموضع، وعلى هذا إذا شرط لأحدهما ما يخرج من ناحية معينة ولآخر ما يخرج من ناحية أخرى.(الهداية،كتاب المزارعة،ج:4،ص:339)

فالحيلة ‌في ‌ذلك ‌أن ‌يدفع ‌الزرع إليه معاملة إن كان الزرع لرب الأرض على أن يعمل المدفوع إليه في ذلك بنفسه وأجرائه وأعوانه على أن ما رزق الله تعالى من الغلة فهو بينهما على مائة سهم من ذلك للدافع وتسعة وتسعون سهما للمدفوع إليه ثم يأذن له الدافع أن يصرف السهم الذي له إلى مؤنة هذه الضيعة أو إلى شيء أراد ثم يؤاجر الأرض منه... وكذلك الحيلة في الشجر والكرم يدفع الشجر والكرم معاملة. كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة،الباب السادس،ج:4،ص:447)

وإن ‌استأجر ‌أرضا فيها زرع للآجر أو شجر أو قصب أو كرم أو ما يمنع من الزراعة لم تجز؛ لأنها مشغولة بمال المؤاجر.(بدائع الصنائع،كتاب الإجارة،فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة،ج:4،ص:188)

قال: "ويشترط تسمية الجزء مشاعا" لما بينا في المزارعة إذ شرط جزء معين يقطع الشركة.(الهداية، كتاب المساقاة،ج:4،ص:243)

وفي فتاوى الحاتوني: التنصيص في الإجارة على بياض الأرض لا يفيد الصحة، حيث تقدم عقد الإجارة على عقد المساقاة، أما إذا تقدم عقد المساقاة بشروطه كانت الإجارة صحيحة كما صرح به في البزازية.(رد المحتار على الدر المختار، كتان الإجارة،ج:9،ص:11)

أخر الأكار السقي، إن تاخيرا معتادا لا يضمن، وإلا ضمن.(الدر المختار على صدر رد المحتار،كتاب المزارعة، ج:9،ص:409)

(ومنها) أنه إذا لم يخرج الشجر شيئا لا شيء لواحد منهما.(الفتاوى الهندية،كتاب المعاملة،ج:5،ص:277)


فتویٰ نمبر : 3381/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں