بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

سفر کی نمازکی نیت میں سفر کے الفاظ کہنے کا حکم


سوال

سفر میں نماز امام کے ساتھ ہو یا انفرادی ہو تو کیا نیت میں" سفر" کالفظ ادا کرنا ضروری ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  نماز چاہے امام کے ساتھ ہو یا انفرادی ہو،سفر کی ہو یا حضر کی ہو   اس میں نیت کا ہونا ضروری ہےجو کہ دل کے ذریعے ہوتاہےیعنی ا س کو دل میں پتہ ہو کہ کونسی نماز پڑھ رہاہے  جبکہ زبان سےنیت کے الفاظ کہنا ضروری نہیں۔

لہذا صورت مسئولہ میں سفر کی نماز پڑھتے وقت چاہے امام کے ساتھ ہو یا انفرادی ہو اس میں صرف  نیت کافی ہے جو کہ دل کے ذریعے ہوتاہے یعنی  اس کودل میں یہ  معلوم ہو کہ وہ سفر کی نمازپڑھ رہاہےزبان سے بولنا ضروری نہیں۔

 

(والمعتبر فيها عمل القلب اللازم للإرادة) فلا عبرة للذكر باللسان إن خالف القلب؛ لأنه كلام لا نية إلا إذا عجز عن إحضاره لهموم أصابته فيكفيه اللسان، مجتبى (وهو) أي عمل القلب (أن يعلم) عند الإرادة (بداهة) بلا تأمل (أي صلاة يصلي) فلو لم يعلم إلا بتأمل لم يجز.(والتلفظ) عند الإرادة (بها مستحب) هو المختار.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الصلاة،ج:1،ص:415)

قال رحمہ اللہ :(والشرط أن يعلم بقلبه أي صلاة يصلي )وأدناه أن يصير بحيث لو سئل عنها أمكنه أن يجيب من غير فكرة.وأما التلفظ بها فليس بشرط ولكن يحسن لاجتماع عزيمته... والخطأ في عدد الركعات لا يضره حتى لو نوى الفجر أربعا والظهر ركعتين أو ثلاثا أو خمسا جاز .(تبيين الحقائق،كتاب الصلاة،باب شروط الصلاة،ج:1،ص:262،261)


فتویٰ نمبر : 9802/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں