بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 28/10/2026 |
دارالافتاء
ادھار پر خریدی گئی چیز کسی تیسرے شخص پر نقدکم قیمت میں فروخت کرنا
سوال
کافی عرصہ سے ہمارے میرعلی بازار میں ایک کاروبار شروع ہے اور روزانہ کے حساب سے کروڑوں کا یہ کاروبار ہوتا ہے۔ وہ اس طرح کہ براہ راست سود لینے اور دینے کی بجائے لوگ یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں کہ جس شخص کو پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے اس پر بطور قرض چینی، آٹا ، گندم وغیرہ مہنگے داموں میں فروخت کیا جاتا ہے ۔ پھر قرض کی ضرورت رکھنے والا وہ چیز لے کر کسی اور شخص پر نقد میں فروخت کرتا ہے۔چنانچہ اس طرح سے جس شخص کو پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ پیسے وصول کرلیتا ہے ۔اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس جیسا معاملہ کرنا سود سے بچنے کے لیے شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ کسی کی ضرورت پوری کرنے کے واسطے اسے قرض دینا مستحب ہے، لہذا جب کسی سے قرض مانگا جائے تو بہتر یہ ہے کہ اس کو قرض حسنہ دے کر اس کی ضرورت پوری کی جائے ،تاہم اگر کوئی شخص قرض دینے کے لیے تیار نہ ہو بلکہ وہ اپنی کوئی چیز مثلاً چینی، دال وغیرہ اصل قیمت یا اصل قیمت سے زیادہ کے عوض ادھار اس پر فروخت کرے تو اس کی بھی گنجائش ہے، بشرطیکہ مشتری واپس اسی فروخت کنندہ کو کم قیمت پرنقد فروخت نہ کرے ،کیونکہ یہ صورت”بیع عینہ“ پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے ۔ البتہ خریدار اگر وہ چیز کسی تیسرے شخص کو نقد کم قیمت میں فروخت کر کے اپنی ضرورت پوری کرے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق جو شخص کوئی چیز ادھار پرزیادہ قیمت میں خریدتا ہے اور پھر آگے کسی تیسرے شخص کو وہ چیز نقد کی صورت میں کم قیمت میں فروخت کرتا ہے تو شرعاً یہ معاملہ جائز ہے،سود میں نہیں آتا۔تاہم یہ معاملہ کسی واقعی ضرورت ہی کے وقت کیا جائے ، اس کو عادت نہ بنایا جائے کیونکہ اس طرح مسلسل مہنگے داموں خرید کر کم قیمت پر فروخت کرنے سے آدمی دیوالیہ ہوجاتا ہے۔
ثم قال في الفتح ما حاصله: إن الذي يقع في قلبي أنه إن فعلت صورة يعود فيها إلى البائع جميع ما أخرجه أو بعضه كعود الثوب إليه في الصورة المارة وكعود الخمسة في صورة إقراض الخمسة عشر فيكره يعني تحريما، فإن لم يعد كما إذا باعه المديون في السوق فلا كراهة فيه بل خلاف الأولى، فإن الأجل قابله قسط من الثمن، والقرض غير واجب عليه دائما بل هو مندوب وما لم ترجع إليه العين التي خرجت منه لا يسمى بيع العينة؛ لأنه من العين المسترجعة لا العين مطلقا وإلا فكل بيع بيع العينة. (ردالمحتار على المختار،كتاب الكفالة، مطلب بيع العينة،ج:5، ص:326)
(قوله وفسد شراء ما باع إلخ) أي لو باع شيئا وقبضه المشتري ولم يقبض البائع الثمن فاشتراه بأقل من الثمن الأول لا يجوز زيلعي: أي سواء كان الثمن الأول حالا أو مؤجلا هداية، وقيد بقوله وقبضه؛ لأن بيع المنقول قبل قبضه لا يجوز ولو من بائعه كما سيأتي في بابه، والمقصود بيان الفساد بالشراء بالأقل من الثمن الأول. (ردالمحتار على المختار، كتاب البيوع، باب البيع الفاسد،ج:5، ص:73)
وإلا فلا كراهة إلا خلاف الأولى على بعض الاحتمالات كأن يحتاج المديون فيأبى المسئول أن يقرض بل أن يبيع ما يساوي عشرة بخمسة عشر إلى أجل فيشتريه المديون ويبيعه في السوق بعشرة حالة، ولا بأس في هذا. (فتح القدير شرح الهداية، كتاب الكفالة،ج:7، ص:213)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 331
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 248
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 907
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 458
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 113
- کتاب النکاح | فتاوئ : 578
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 499
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 34
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 479
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 103
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 83
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 64
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 328
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1203
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 391
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں