بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

عشر ادا کرتے وقت اخراجات منہا کرنے کا حکم


سوال

ہم خربوزے  کاشت کرتے ہیں۔ پکنے پر اسے منڈی میں بھیج دیتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ خربوزے کی جو قیمت بنتی ہے، اس سے اخراجات منہا کرنے کے بعد عشر نکالیں یا پوری قیمت سے عشر نکالیں؟

جواب

واضح رہے  کہ عشر یا نصف عشر اخراجات نکالنے سے قبل کل پیداوار سے ادا کیا جائے گا۔ پیداوار پر ہونے والے اخراجات اور مزدوروں کی اجرت نکالنے کے بعد عشر نکالنا درست نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق سائل پر لازم ہے کہ منڈی میں خربوزے کی جوکل قیمت بنتی ہے، اخراجات منہا کیے بغیر اسی سے عشر ادا کرے۔

 

 (نصف العشر قبل رفع مؤن الزرع) بضم الميم وفتح الهمزة جمع المؤنة وهي الثقل والمعنى بلا إخراج ما صرف له من نفقة العمال والبقر وكري الأنهار وغيرها مما يحتاج إليه في الزرع لإطلاق قوله  عليه الصلاة والسلام «فيما سقته السماء العشر وفيما سقي بالسانية نصف العشر» ؛ ولأنه عليه الصلاة والسلام حكم بتفاوت الواجب لتفاوت المؤن فلا معنى لرفعها هذا قيد لمجموع العشر ونصفه كما لا يخفى. (مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، ج:1، ص:216، دار إحياء التراث العربي، بيروت)

وكل شيء أخرجته الأرض مما فيه العشر ‌لا ‌يحتسب ‌فيه ‌أجر ‌العمال ونفقة البقر " لأن النبي عليه الصلاة والسلام حكم بتفاوت الواجب لتفاوت المؤنة فلا معنى لرفعها.(الهداية،كتاب الزكوة،ج:1،ص:109)


فتویٰ نمبر : 9906/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں