بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سوتیلی ماں کے پہلے خاوند سے اولاد کے ساتھ نکاح کرنا


سوال

ایک بیوہ عورت نے ایک شخص کے ساتھ نکاح  کیا،بیوہ کے پہلے خاوند سے  بھی اولاد ہے،تو کیا اس عورت کے پہلے  خاوند کی اولاد کت ساتھ دوسرے خاوند کی دوسری بیوی کی اولاد کا شرعاً نکاح ہوسکتا ہے؟

جواب

شرعی لحاظ سے جن اسباب کی وجہ سے کسی عورت اور مرد کے مابین نکاح حرام رہتا ہے ان اسباب کے نہ پائے جانے کی صورت میں  ان کا باہم نکاح جائز رہے گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق بیوہ کے پہلے خاوند سے  اولاد اور  خاوند کی دوسری بیوی سے اولاد کے درمیان  کوئی ایسا  رشتہ نہیں ہےجو باہم نکاح کے لیے مانع ہو؛لہذا  ان دونوں کے درمیان نکاح جائز ہے۔

 

وفي ‌التبيين ‌ويدخل في قوله {وربائبكم} [النساء: ٢٣] بنات الربيبة والربيب؛ لأن الاسم يشملهن بخلاف حلائل الأبناء والآباء؛ لأن الاسم خاص بهن فلا يتناول غيرهن.يعني فلا تحرم بنت زوجة الابن ولا بنت ابن زوجة الابن ولا بنت زوجة الأب ولا بنت ابن زوجة الأب.(البحرالرائق،كتاب  النكاح،فصل في المحرمات،ج:3،ص:166)

وزوجه أصله وفرعه أي الابن الصلبي وإن سفل دون المتبني،فإن زوجته حلال بنص القرآن،وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال،وكذا بنت أبيها.(عمدة الرعاية على شرح الوقاية،كتاب النكاح ،باب المحرمات،ج:3،ص:31)


فتویٰ نمبر : 6682/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں