بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

عدالتی تنسیخ نکاح کا حکم


سوال

ایک عورت نے عدالت میں تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کیا  اور اس میں انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ شادی کے بعد میرا شوہر مجھ پر تشدد کرتا رہا تو میں اس کے سخت رویے سے تنگ آکر  اپنےوالدین کے گھر آئی ،کچھ دنوں بعدمیرا شوہر ہمارےوالدین کے  گھر آیا  تاکہ مجھے اپنے گھر لے جائے تاہم میری ماں اس کے لیے راضی نہیں  تھی،پھر علاقہ مشران نے ہمارے درمیان صلح کرائی اور میں اپنے شوہر کے گھر چلی گئی،تاہم پھر بھی شوہر کا میرے ساتھ رویہ وہی رہا جیسا کہ اس سے پہلے تھا ،چنانچہ میں  پھر اپنے والدین کے گھر آئی کیونکہ میرا شوہر   نہ مجھے خرچہ دیتا تھا اور نہ ہی علاج کرتا تھا اور مجھے بہت سخت مارتا پیٹتا تھا یہاں تک کہ چہرے پر زخم کے نشانات پڑگئے۔ چنانچہ لڑکی کے باپ نے  اس سے کہا کہ اگر آپ میری بیٹی کو اچھی طرح سے اپنی نکاح میں نہیں رکھ سکتے تو اسے طلاق دے دو، تاہم شوہر اس کو طلاق  دینے کے لیے راضی نہیں ہے۔ لہذا لڑکی کے گھر والوں نے  عدالت میں جاکراس کے  شوہر پر تنسیخ نکاح کا کیس دائر کیا، عدالت نے دونوں کو  ثبوت پیش کرنے کا موقع دیا ،شوہر نے اپنے تحریری بیان میں بیوی کی باتوں کی تردید کی اور کہا کہ میں نے دونوں بیویوں کو رہائش کے لیے  الگ الگ کمرہ  دیا تھا تاہم بیوی علیحدہ گھر کا مطالبہ کررہی تھی  کیونکہ اس کی نیت ٹھیک نہیں تھی۔نیز شوہر نے کہا کہ میں نے  بیوی پر  جسمانی تشددبھی  نہیں کیا ہے۔چنانچہ  عدالت نے تنسیخ  نکاح کا حکم جاری کیا ،  شرعی لحاظ سے عدالتی فیصلے کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کا یہ  حکم معتبر  ہےیا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ میاں بیوی کے ازدواجی تعلق قائم ہونے کے بعد شوہر پر بیوی کے حقوق اور نان نفقہ کی ادائیگی لازم ہوجاتی ہے،چنانچہ اگر  شوہر بیوی کے حقوق ،نان نفقہ کی ادائیگی میں کسی قسم کی  کوتاہی نہیں کررہا ہو اور عورت اس کے باوجود تنسیخ نکاح  کا مطالبہ  کر رہی ہو تو ایسی صورت میں عورت کا  عدالت سے  تنسیخ نکاح  کی ڈگری لینا جائز نہیں،اور ڈگری حاصل کرنے کی صورت میں عورت قانونی طور پر اگرچہ آزاد ہوتی ہے ،لیکن شرعاً آزاد نہیں ہوتی لہذا اس پر عدت بھی لازم نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح کرسکتی ہے  کیونکہ وہ اسی سابقہ شوہر کے نکاح میں رہتی ہے۔

تا ہم اگر خاوند  قدرت رکھنے کے باوجود بیوی کے حقوق اور  نان نفقہ کی ادائیگی سے انکار کرےاور اس  پر ظلم کرے  ،جب کہ  ایسی صورت میں شوہر بیوی کو طلاق  دینے یا خلع  پر بھی  راضی  نہ ہوتا ہو تو شرعاً یہ شوہر متعنت کہلاتا ہے،لہذا یہ عورت  عدالت میں جا کر فسخ نکاح کا مطالبہ کرسکتی ہے،اس کے بعد اگر عورت  شوہر کے ظلم اور نان نفقہ کی عدم ادائیگی کو گواہوں  کے ذریعے سے ثابت کرے تو عدالت مکمل تحقیق کے بعد پہلے تو شوہر کو حکم دے گی کہ یا تو بیوی کو اپنے پاس عدل وانصاف کے ساتھ رکھے اور یااسے  طلاق دے ،اگر  شوہر نہ بیوی کو اپنے ساتھ عدل وانصاف کے ساتھ رکھنا چاہتا ہو اور نہ ہی وہ طلاق دینے پر راضی ہو تو عدالت عورت کو تنسیخ نکاح کی ڈگری دے سکتی ہے،اور شرعاً یہ تنسیخ معتبر شمار ہوگی،اور عدت گزرنے کے بعد یہ عورت دوسری جگہ نکاح  کر سکتی ہے۔   

صورت مسئولہ کے مطابق اگرلڑکی نے عدالت میں شوہر کے ظلم  کرنے اور حقوق ادا نہ کرنے کو گواہوں کے ساتھ ثابت کیا ہو تو تعنت ثابت ہونے کی وجہ سے عدالت کا فسخ نکاح کا فیصلہ شرعاً معتبر ہوگا۔تاہم اگر شوہر کا تعنت گواہوں یا اس کے اقرار سے ثابت نہ ہوا ہو  تو ڈگری شرعاً معتبر نہ ہوگی۔

 

قال اللہ تعالیٰ:﴿فإن خفتم ألا يقيما حدود الله  فلا جناح عليهما فيما افتدت به﴾. (البقرة:229)

قال فی الفتح: ومنھا أي من محاسنه جعله بيد الرجال دون النساء لاختصاصهن بنقصان العقل، وغلبة الهوى،ونقصان ا لدين. (رد المحتار على الدر المختار،كتاب الطلاق، ج:3، ص:229)

" ‌وإذا ‌تشاق ‌الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به ". (الهداية،كتاب الطلاق،باب الخلع،ج:2،ص:261)

وأما المتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمير ما نصه إن منعها نفقةالحال فلها القيام فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق و إلا طلق عليه ،قال محشيه أي طلق عليه الحاكم ۔(الحيلة الناجزة ،ص 133)


فتویٰ نمبر : 6680/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں