بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

وصیت کرنے کے بعد زندگی میں رجوع کرنا


سوال

زید نے عرصہ دو سال پہلے اسٹام پیپر پر ایک وصیت کی،جس کا مضمون کچھ یوں ہے:”میں بہ ہوش وحواس یہ وصیت کرتاہوں،کہ میرے مرنے کے بعد میرامکان جو میری ذاتی ملکیت ہےاور اس پر کسی اورشخص کی دعویداری نہیں ہے،مکمل طور پر فی سبیل اللہ جنازگاہ کے لیے وقف کرتاہوں،نیز یہ کہ میرے مرنے کے بعدمیرے ورثاء یاکسی اورشخص کااس میں کسی قسم کاعمل دخل نہیں ہوگا۔“یہ چند سطور بطور وصیت لکھ دیےتاکہ بوقت ضرورت کام آسکے،اس کے بعد تقریباً دوسال بعد اپریل2023میں زید کے ساتھ حادثہ ہوا،اور پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی۔جس کے لیے دوائی اور علاج کی ضرورت پڑ گئی،لیکن زید کے پاس نقدی وغیرہ کچھ بھی نہیں،کہ وہ اس سے اپناعلاج معالجہ کرسکے،تو اس نے اپنی وصیت کو منسوخ کرتے ہوئےکہا،کہ میں اپنے علاج کے لیےاپنےمکان کو فروخت کرتاہوں،چنانچہ بکر کے ساتھ مکان کاعقد ہوا،واضح رہےکہ زیدبالکل اپنے ہوش وحواس میں باقاعدہ گواہی کی موجودگی میں برضاورغبت اور پیسوں کی اشد ضرورت کی وجہ سےوصیت سے رجوع کرتاہےتوکیا اس کے لیے شرعاً ایساکرنادرست ہے؟کیادوسراعقد بیع درست ہے؟اور زندگی ہی میں وصیت سے رجوع کرنے کی تفصیل تحریرکریں۔

جواب

واضح رہےکہ وصیت موصی (وصیت کرنے والے)کے حق میں عقد لازم نہیں بلکہ یہ عقد تبرع واحسان ہے؛لہذاجب تک وہ زندہ ہو،اس کو اپنی وصیت سے رجوع کرنے کاحق حاصل رہتاہے۔

صورت مسئولہ میں  سائل نے چونکہ اپنی زندگی میں وصیت سے صراحۃ ًرجوع کرلیاہے،اس لیےاس کایہ رجوع صحیح ہےاور اس کا کیاہواعقد بیع درست اور نافذہوگا۔

 

الوصية بالفرائض والواجبات واجبة، وبما وراءها جائزة، ومندوب إليها، ومستحبة في بعض الأحوال، وعند بعض الناس: الكل واجب.

وأما التي هي بعد الوجود فهي أن هذا عقد غير لازم في حق الموصى حتى يملك الرجوع عندنا ما دام حيا؛ لأن الموجود قبل موته مجرد إيجاب، وأنه محتمل الرجوع في عقد المعاوضة فهي بالتبرع أولى...ثم الرجوع قد يكون نصا، وقد يكون دلالة، وقد يكون ضرورة، أما النص فهو أن يقول الموصي: رجعت، أما الدلالة فقد تكون فعلا، وقد تكون قولا، وهو أن يفعل في الموصى به فعلا يستدل به على الرجوع أو يتكلم بكلام يستدل به على الرجوع...وأماالرجوع الثابت من طريق الضرورة فنوعان: أحدهما أن يتصل بالعين الموصى به زيادة لا يمكن تسليم العين بدونها...والثاني: أن يتغير الموصى به بحيث يزول معناه، واسمه سواء كان التغيير إلى الزيادة أو إلى النقصان.(بدائع الصنائع،كتاب الوصية،باب في صفة العقد،ج:10،ص:566،577)

(قوله وله الرجوع عنها) لأن تمامها بموت الموصي، ولأن القبول يتوقف على الموت والإيجاب المفرد يجوز إبطاله في المعاوضات كالبيع، ففي التبرع أولى عناية.(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الوصايا،ج:6،ص:658)


فتویٰ نمبر : 3449/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں