بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
مدرسہ کے درختوں کا پھل استعمال کرنا
سوال
ہمارے مدرسہ میں آم بہت ہے کیا صدر مدرس کی اجازت سے آم توڑ سکتے ہیں ۔مدرسے کا اصل مالک کمیٹی ہے ،لیکن کمیٹی آم کے سلسلے میں کچھ نہیں بولتے اور مدرسے کے بچے آم توڑ کر کھاتےہیں اور صدر مدرس بھی آم کے سلسلےمیں خاموش ہی رہتےہیں تو کیا کوئی مدرس دو چار آم توڑ سکتے ہیں۔
جواب
واضح رہے کہ واقف کی شرط شارع کے نص کی طرح ہےیعنی جس طرح شریعت کے نص پر عمل کرنا ضروری ہےاسی طرح واقف کےشرط کی رعایت بھی ضروری ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر زمین وقف کرتے وقت یہ درخت موجود تھےاورواقف نے وقف کرتے ہوئےیہ نیت کی ہوکہ مدرسہ میں ہر شخص اس موقوفہ زمین کے درخت سے پھل کھا سکتا ہےتو سب کے لیے کھانے کی گنجائش ہے،لیکن اگر اس نے درختوں کے پھل مدرسہ کے مصارف میں صرف کرنے کی نیت کی ہوتو پھر مفت میں ان کو کھانے کی اجازت نہ ہوگی بلکہ ان کو بیچ کرقیمت مدرسہ میں خرچ کی جائے گی،البتہ اگر موقوفہ زمین میں درخت پہلے سے موجود نہ تھے بلکہ بعد میں اگائے گئے تو پھر اگانے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا۔
لو كان في المقبرة أشجار وقت الوقف كان للورثة أن يقطعوها لأن موضعها لم يدخل في الوقف لأنه مشغول بها كما لو جعل داره مقبرة لا يدخل موضع البناء في الوقف بخلاف غير المقبرة فإن الأشجار والبناء إذا كانت في عقار وقفه دخلت في الوقف تبعا ولو نبتت فيها بعد الوقف إن علم غارسها كانت للغارس وإن لم يعلم فالرأي فيها إلى القاضي إن رأى بيعها وصرف ثمنها على عمارة المقبرة فله ذلك.(بحر الرائق شرح كنز الدقائق،كتاب الوقف،ج:5،ص:274)
وفي الحاوي :وما غرس في المساجد من الأشجار المثمرة إن غرس للسبيل وهو الوقف على العامة كان لكل من دخل المسجد من المسلمين أن يأكل منها وإن غرس للمسجد لا يجوز صرفها إلا إلى مصالح المسجد الأهم فالأهم كسائر الوقف وكذا إن لم يعلم غرض الغارس.(البحر الرائق،كتاب الوقف،341،342)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں