بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

دیت کی تقسیم


سوال

 اگر ایک شخص قتل ہوا ہو اور اس کے قتل کا دعویٰ اس کی ماں اور بھائیوں پر ہو،جب کہ مقتول کا والد اور بہنیں بھی زندہ ہوں تو دیت کی رقم ان میں سے کس کس کو دی جائے گی؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے دیت کی رقم مقتول کے ورثا  میں بطور ترکہ تقسیم ہوگی، تاہم اگر  قاتل  رشتہ  داروں میں سے ہو تو اسے دیت کی رقم میں سے حصہ نہیں دیا جائے گا،کیونکہ اس نے اقدامِ قتل کر کے خود کو  میراث لینے سے محروم کرلیا ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی مقتول کو اس کی ماں اور بھائیوں  نے  قتل کیا ہو تو دیت کی رقم  ان کو  نہیں دی جائے گی بلکہ دیت کی تمام رقم  مقتول کے والد کو ملے گی۔

 

عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ”القاتل ‌لا ‌يرث“. (سنن الترمذي،أبواب الفرائض، باب ما جاء في إبطال ميراث القاتل، ج: 4، ص:425)

‌لا ‌يرث القاتل من دية من قتل ولا مما ترك المقتول شيئاً. (الأصل للإمام محمدالشيباني، باب ميراث القاتل، ج:6، ص:120)

أما الأب فله أحوال ثلاث:۔۔۔والتعصيب المحض وذلك عند عدم الولد وولد الابن وإن سفل. (السراجي في الميراث، ص:15)


فتویٰ نمبر : 5429/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں