بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

ڈیبٹ کارڈ والے اداروں کی طرف سے ملنے والا اضافی بیلنس کا حکم


سوال

میں  نے بینک سے ایک pre-paid online debit card بنوایا ہے. جس میں میں پہلے سے کچھ پیسے رکھتا ہوں اور پھر اس کے ذریعے روزمرہ کی خریداری جیسے کہ سودا  وغیرہ خریدتا ہوں. میرا آن لائن ڈیبٹ کارڈ کسی استعمال پر 0.06٪ کیش بیک دیتا ہے میں چاہوں یا نہ چاہوں۔ یعنی اگر میں کہیں بھی اس کارڈ کے ذریعے خریداری کروں گا تو ہر ایک ریال پر میرے کارڈ میں 0.06 ریال واپس آ جاتے ہیں. اس چیز کی شرعی حیثیت آپ سے مطلوب ہے۔

جواب

آن لائن ڈیبٹ کارڈ(pre-paid online debit card)  بنوانا اور اس کا استعمال کرنا بذات خودجائز ہے، اس کارڈ کے ذریعہ آدمی اتنے ہی پیسوں کی خریداری کرسکتا ہے جتنی رقم اس کے اکاؤنٹ میں موجود ہے، اس کے حاصل کرنے کے لیے سودی معاہدہ نہیں کرنا پڑتا، تاہم ڈیبٹ کارڈکے ذریعہ ادائیگی کی صورت میں سائل کوجواضافی ریال ملتے ہیں   تواس کےبارے میں تفصیل یہ ہےکہ:

1:اگر یہ اضافی ريال اس ادارے کی طرف سےہوں، جہاں سے یہ شخص خریداری کرتاہوں تو اس کالینا جائزہےکیونکہ یہ اس کی طرف سے تبرع اور احسان ہے۔

2:اور اگر یہ اضافی ريال سودی بینک کے ڈیبٹ کارڈ پر بینک  کی طرف سے مل رہاہو ،تویہ بہر حال ناجائز ہے ،چاہے کرنٹ اکاؤنٹ ہویا سیونگ،کیونکہ سودی بینک کے ہر اکاؤنٹ میں بیلنس کی حیثیت قرض کی ہوتی ہے،اور جو فائدہ قرض کی وجہ سے مقروض کومل رہاہووہ سود کے زمرے میں آتاہے۔

3: اگر یہ اضافی ريال غیر سودی بینک   کے  کرنٹ اکاؤنٹ کی طرف سے مل رہاہوتو  اگر یہ ہر اکاؤنٹ ہولڈر کو ضروردیاجاتاہو،توالمعروف کالمشروط کی وجہ سے اس کا حکم بھی ربا(سود) کاہےلہذا اس کالینا جائز نہیں ۔تاہم اگر ہر ایک کو ملنا ضروری نہ ہو،تواس کا لینا جائز ہوگااور یہ حسن ادا کے حکم میں ہوگا۔

4: اگر یہ اضافی ريال غیر سودی بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں بیلنس رکھنے پر ملتاہے،توبھی جائزہے۔کیونکہ اس میں رقم بینک کے ذمے قرض نہیں ہوتی لہذایہ قرض پر نفع لینے کے زمرے میں نہیں آتا۔

 

وأمّا الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن ‌قرض جرّنفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض، فأما إذا كانت غير مشروطة فيه ولكن المستقرض أعطاه أجودهما؛ فلا بأس بذلك؛ لأن الربا اسم لزيادة مشروطة في العقد، ولم توجد، بل هذا من باب حسن القضاء، وأنه أمر مندوب إليه قال النبي - عليه السلام -: «خيار الناس أحسنهم قضاء» . (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، فصل في شرائط ركن القرض، ج:7، ص:395)

قالوا: ‌المعروف كالمشروط... وفي البزازية المشروط عرفا كالمشروط شرعا. ( الأشباه والنظائرلابن نجيم،المبحث الثالث: العادة المطردة هل تنزل منزلةالشرط، ص:85

ألا ترى أنه لوقضاه أحسن مما عليه لا يكره إذا لم يكن مشروطا، قالوا: إنما يحل ذلك عند عدم الشرط إذا لم يكن فيه عرف ظاهر فإن كان يعرف أن ذلك يفعل كذلك فلا. ( ردالمحتار على الدرالمختار، ج:5، ص: 488)

قال: "ويجوزللمشتري ‌أن يزيد للبائع في الثمن ويجوز للبائع أن يزيد للمشتري في المبيع، ‌ويجوز ‌أن يحط من الثمن ويتعلق الاستحقاق بجميع ذلك" فالزيادة والحط يلتحقان بأصل العقد عندنا. (الهداية، ج:3، ص:60)


فتویٰ نمبر : 5427/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں