بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

فجر کی نماز میں قراءت مسنون کے علاوہ ترتیب وار قرآن پڑھنے کا حکم


سوال

ہماری مسجد کے امام صاحب فجر کی نماز میں مکمل قرآن ترتیب سے پڑھتے ہیں یعنی روزانہ دو صفحات یا دو رکوع پڑھتے ہیں اس طرح سال بھر میں قرآن مکمل ہو جاتا ہے، سوال یہ ہے کہ ان کا یہ عمل شرعا جائز ہے؟ کیا یہ خلافِ سنت ہے؟ کیا اس عمل کو یہ کہنا درست ہے کہ یہ سنت کے مطابق یا سنت کے قریب نہیں ہے؟ جب کہ امام صاحب کا کہنا ہے کہ میں یہ سنت سمجھ کر نہیں کرتا نا ہی کسی کو قرآن مکمل سننے پر مجبور کرتا ہوں نا ہی ترغیب دیتا ہوں۔ براہ کرم تفصیلی جواب عنایت فرمائیں حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کا قراءت کے معاملے میں کیا عمل تھا اور سنت قراءت سے مراد آیات قرآنیہ کی مقدار ہے یا مخصوص سورت؟

جواب

واضح رہےکہ فجر کی نمازکی قراءت کے سلسلےمیں  حضورﷺسے مختلف مقدارمیں   پڑھناروایات سے ثابت ہے،بعض روایات میں لمبی سورتیں مثلاًسورہ مؤمنين،بعض روایات میں متوسط سورتیں مثلاًسورہ واقعہ ،جب کہ بعض روایات میں مختصرسورتیں مثلاًسورہ تکویرپڑھنا ثابت ہے۔فقہائے کرام نے ان کومقتدیوں کی حالت پرمحمول کیاہے،کہ امام اپنے مقتدیوں کی حالت اور کیفیت کودیکھ کر اس کی مطابق قراءت میں طول یاقصر کرے۔

صورت  مسئولہ کےمطابق امام صاحب  کا فجر کی نماز میں سال بھرمیں پورا قرآن ختم کرنے سے اگرمقتدی ناراض نہ ہوتےہواور مسنون قرآت کے مقدار سے زیادہ نہ پڑھتاہو،تواس میں کوئی حرج نہیں۔تاہم خاص اس عمل کو سنت سمجھنا درست نہیں۔نیزمستحب  قرآت فجر کی نمازمیں طوال مفصل (یعنی سورہ حجرات سے سورہ بروج تك)میں سےکسی سورت کاپڑھناہے لیکن اگر کوئی ان کے بقدر کسی اور جگہ سے پڑھےتو پھر بھی سنت ادا ہوجائیگی،کیونکہ حضورﷺسے اس کے علاوہ سورتوں کاپڑھنا بھی ثابت ہے۔

 

وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ فِي الصُّبْحِ بِالوَاقِعَةِ، وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الفَجْرِ مِنْ سِتِّينَ آيَةً إِلَى مِائَة، وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ " قَرَأَ: إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ.(سنن الترمذي،باب ما جاء في القراء في الصبح،ج:1،ص:151)

عن عبد الله بن السائب قال: " صلى لنا النبي صلى الله عليه وسلم: الصبح بمكة فاستفتح سورة المؤمنين حتى جاء ذكر موسى، وهارون أو ذكر عيسى - محمد بن عباد يشك - أو اختلفوا عليه أخذت النبي صلى الله عليه وسلم سعلة فركع.(صحيح لمسلم،باب القراءة في الصبح،ج:1۔ص:336)

واستحسنوا في الحضر طوال المفصل في الفجر والظهر وأوساطه في العصر والعشاء وقصاره في المغرب. كذا في الوقاية.وطوال المفصل من الحجرات إلى البروج والأوساط من سورة البروج إلى لم يكن والقصار من سورة لم يكن إلى الآخر.(الفتاوی الهندية،الفصل الرابع في القرآة،ج:1،ص:77)

ويقرأ في الحضر في الفجر في الركعتين بأربعين آية أو خمسين آية سوى فاتحة الكتاب ". ويروى من أربعين إلى ستين ومن ستين إلى مائة وبكل ذلك ورد الأثر ووجه التوفيق أنه يقرأ بالراغبين مائة وبالكسالى أربعين وبالأوساط ما بين خمسين إلى ستين.(الهداية،باب صفة الصلوة،ج:1،ص:55)


فتویٰ نمبر : 9677/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں