بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

نابالغ بچوں کی پرورش کا حق


سوال

ایک عورت کا شوہر فوت ہوگیا ہے،اور عدت مکمل ہونے کے بعد وہ اپنے والد صاحب کے گھر منتقل ہوگئی اس کے دو بیٹے ہیں ایک کی عمر سات سال اور دوسرے کی عمر چار سال ہے،عورت اپنے دونوں بیٹوں کی پرورش خود کرنا چاہتی ہے،جب کہ لڑکوں کے چچا کا مطالبہ یہ ہے کہ ان کی پرورش ہم کریں گے، یہ بھی واضح ہو کہ لڑکوں کا دادا بھی فوت ہوچکا ہے،شرعی لحاظ سے بچوں کی پرورش کا حق کس کو حاصل ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے بچے کے بنیادی حقوق میں سے یہ ہے  کہ پیدائش کے بعد اس کی پرورش اور صحت کا خیال رکھا جائے،اسے تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جائے،اس کی دینی و اخلاقی تربیت پر بھرپور توجہ دی جائے۔چنانچہ بچے کی پرورش کی بہترین صورت یہ ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے زیر سایہ زندگی گزارے۔تاہم اگر میاں بیوی کے مابین کسی وجہ سے جدائی آجائے  تو لڑکے کی سات سال تک اور لڑکی کی نو سال تک پرورش کا حق ماں کو حاصل ہے،البتہ اگر بچے کی ماں کسی ایسے شخص سے نکاح کرے جو بچے کا ذی رحم محرم نہ ہو یا وہ بچے کی پرورش کا خیال نہ رکھتی ہو جس کی وجہ سے بچے کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو  تو پھرپرورش كا حق اس بچے كے قريبی رشتہ داروں (جیسے نانی،اور اگر نانی نہ ہو تو دادی،پھر حقیقی بہن، پھر خالہ اور پھر پھوپھی)کو منتقل ہوجاتا ہے۔البتہ مذکورہ مدت کے بعد لڑکے اور لڑکی کی پرورش کا حق باپ کو حاصل ہوجاتا ہے،تاہم اگر باپ موجود نہ ہو تو پھر دادا،پھر  بھائی،اور پھر چچا کو ان کی پرورش کرنے کا حق حاصل ہے۔

لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق ماں کو سات سال تک  بچوں کی پرورش کرنے کاحق حاصل ہے،تاہم سات سال کے بعد چچا ان بچوں کی پرورش کا زیادہ حق دار ہے تاکہ وہ ان کی تعلیم  وتربیت وغیرہ کا  بندوبست کرے۔

 

أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة ۔۔۔أو كانت غير أهل للحضانةأو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة، وإن علت، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها، وإن علت كذا في فتح القدير.(الفتاوى الهندية،الباب السادس عشر في الحضانة،ج: 1، ص: 541)

والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض۔ وقدر بتسع وبه يفتى۔ كذا في ردالمحتار. وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى - إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين.۔۔۔۔۔ وبعدما استغنى الغلام وبلغت الجارية فالعصبة أولى يقدم الأقرب فالأقرب كذا في فتاوى قاضي خان. ( الفتاوى الهندية، الباب السادس عشر في الحضانة،ج: 1، ص: 542)

‌وأما ‌بيان ‌من ‌له ‌الحضانة فالحضانة تكون للنساء في وقت وتكون للرجال في وقت والأصل فيها النساء؛ لأنهن أشفق وأرفق وأهدى إلى تربية الصغار ثم تصرف إلى الرجال؛ لأنهم على الحماية والصيانة وإقامة مصالح الصغار أقدر.(بدائع الصنائع، كتاب الحضانة، فصل في بيان من له الحضانة،ج:4، ص: 41)


فتویٰ نمبر : 6672/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں