بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

اضافی بل آنے پر چوری کی بجلی استعمال کرنا


سوال

ہم ایک ایسے علاقے  میں رہتےہیں جہاں بجلی  کا غیر قانونی استعمال ہوتاہےجس کی وجہ سےسارے علاقے پر واپڈاوالوں کی جانب سے اضافی چارجز آتےہیں اب ہمیں ہر مہینےاپنے خرچ شدہ بجلی کے علاوہ اس بجلی کا بھی بل ادا کرتےہیں جو چوری ہے  سوال یہ پوچھناتھا کہ ہم پہلے ہی سےاضافی پیسے دیتےہیں تو کیا ہمارے لیے بجلی کا غیر قانونی استعمال درست ہوگا ؟یعنی اتنی مقداربجلی استعمال کریں جتنی ہم اس بل کے علاوہ اس کو زیادہ پیسے دیتےہیں ۔

جواب

سرکاری ادارے پوری قوم کی ملکیت ہیں، اور ان کی چوری بھی اسی طرح جرم ہے جس طرح کہ کسی ایک فرد کی چوری حرام ہے، بلکہ سرکاری اداروں کی چوری کسی خاص فرد کی چوری سے بھی زیادہ سنگین ہے؛ کیوں کہ ایک فرد سے تو آدمی معاف بھی کراسکتا ہے، لیکن پوری قوم سے معاف کراناممکن نہیں۔اگر متعلقہ محکمہ اضافی بل بھیجے  تو یہ ان کی طرف سےظلم ہےجس کی جواب دہی ان  کے ذمہ ہے،تاہم اس کو جوازبناکربجلی چوری کرناجائزنہیں ہوسکتا۔

 

حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير قال: حدثنا أبو الوليد قال: حدثنا شعبة، ح وحدثنا محمد بن بشار قال: حدثنا ابن أبي عدي، عن شعبة، عن الأعمش، عن أبي وائل، عن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ‌ينصب ‌لكل ‌غادر لواء يوم القيامة، فيقال: هذه غدرة فلان .(سنن ابن ماجه،باب الوفاءبالبيعة،ج:2،ص:959،داراحياءالكتب العربية)


فتویٰ نمبر : 5424/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں