بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

امداد اور پینشن میں ملنے والی رقم میں میراث كا حكم


سوال

ایک آدمی سرکاری نوکر تھاجب فوت ہواتو  پینشن یا وفات پر  حکومت کی طرف سے جو امداد دی جاتی ہےوہ سب حکومت نے اس کی بیوی کے نام کر دی ہےاب پوچھنا یہ ہے کہ ان پیسوں میں بیوی کے علاوہ  اس کے  بھائیوں اور بہنوں کا کچھ حق ہے یانہیں،جبکہ اس کی صرف ایک بیوی ،تین بھائی اور چار بہنیں ہیں  والدین فوت ہوئے ہیں اور اولاد بھی نہیں ہیں؟

جواب

            واضح رہے کہ میراث کے احکام ان اموال میں جاری ہوتے ہیں،جو میت کے زندگی میں اس کی ملکیت میں  ہوں۔چنانچہ جو چیز اس کی ملک میں  نہ ہواس میں میراث کے احکام جاری نہیں ہوں  گے۔

          صورت مسؤلہ میں پینشن  اور امدادی رقم   جو حکومت نے مرحوم کی بیوی کے نام کیاہے،وہ رقم مرحوم کی بیوی کے ساتھ مخصوص ہے،اس میں میراث کے احکام جاری نہیں ہوں گےکیونکہ یہ مرحوم کا ترکہ نہیں بلکہ حکومت کی طرف سے عطیہ ہےاور میراث ترکہ میں جاری ہوتا ہے عطیہ میں نہیں۔

 

العطاء لا يورث۔(الأشباه والنظائرلابن نجيم،ص:256)

 


فتویٰ نمبر : 5426/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں