بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

کاروبارمیں جھوٹ بولنا


سوال

ایک لڑکا جس کی عمر 23 سال ہے۔ والد صاحب کے کاروبار  پر جانا شروع کیا ہواور ساتھ ہی والد صاحب  کاروبار میں جھوٹ بولنے پر بھی مجبور کرتا ہو،لیکن لڑکا دل  سے  جھوٹ بولنے پر راضی  بھی نہ ہواور  کسی اورجگہ کاروبار کرنا بھی مشکل ہو،جبکہ  لڑکے کی نیت یہ ہو کہ ابھی تو  کاروبار والد  کے اختیار میں ہےجب  کاروبار میرے اختیار  میں  ہوگا تو میں ہر لحاظ سے شریعت کا حکم مانوں گا اب اس لڑکے کے لیے جھوٹ بولنے کی گنجائش ہے یا نہیں،اگر جھوٹ بولنے کی گنجائش نہیں تو لڑکے کے لیے والد کے کاروبار پر جانا ممکن ہی نہیں جس کی وجہ سے لڑکے  کی زندگی میں کافی مشکلات  ہوں۔اگر لڑکا کوشش کرتا رہے کہ  جب تک کوئی اور کام نہ ملے کیا تب تک  جھوٹ بولنے کی گنجائش ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ جان بوجھ کرخلاف واقع بات کہنا جھوٹ ہے اور جھوٹ حرام ہے۔رسول اللہﷺ نے جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی کوکبیرہ گناہوں میں سے قرار دیا ہے  اور جھوٹ بولنے کو منافق کی نشانی شمار  کیا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق  اگر والد  صاحب اپنے کاروبار میں بیٹے کو جھوٹ بولنے پر مجبور کررہا ہوتو  بیٹے پر لازم ہےکہ حتیٰ الوسع  کوشش کرکے خود کوجھوٹ   اور دھوکہ دہی  سے بچاتارہے، لیکن اگر کوئی صورت  بچنے کی نہ ہوتو  پھر اس کاروبار سے علیحدگی اختیار کرے،کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے معاملہ میں کسی کی فرمانبرداری جائز نہیں ۔

 

حدثني إسحاق، حدثنا خالد الواسطي، عن الجريري، عن عبد الرحمن بن أبي بكرة، عن أبيه رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا أنبئكم بأكبر الكبائر» قلنا: بلى يا رسول الله، قال: " ‌الإشراك ‌بالله، وعقوق الوالدين، وكان متكئا فجلس فقال: ألا وقول الزور، وشهادة الزور، ألا وقول الزور، وشهادة الزور " فما زال يقولها، حتى قلت: لا يسكت.(صحيح البخارى،كتاب الأدب،باب عقوق الوالدين من الكبائر،ج:4،ص:1685).

حدثنا سليمان أبو الربيع، قال: حدثنا إسماعيل بن جعفر، قال: حدثنا نافع بن مالك بن أبي عامر أبو سهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " ‌آية ‌المنافق ‌ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان "(صحيح البخارى،كتاب الإيمان،باب علامة المنافق،ج:1،ص:16).

‌‌كذب ‌الخبر: عدم مطابقته للواقع، وقيل: هو إخبارٌ لا على ما عليه المخبر عنه.(التعريفات للجرجاني،باب الكاف،ص:129).


فتویٰ نمبر : 5406/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں