بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

گاہک مہیا کرنے پر کمیشن لینا


سوال

ایک شخص موبائل شاپ والے کو گاہک مہیا کرتا ہے اور اس سے اس بات پر اپنی کمیشن کا مطالبہ کرتا ہے ، کیا اس کے لئے یہ کمیشن لینا جائز ہے؟

جواب

         بائع اور مشتری کے مابین خرید و فروخت میں واسطہ  بننے والا شخص  دلال کہلاتا ہے  ، ضرورت اور کثرت تعامل کی وجہ سے فقہائے کرام نے دلال کی اجرت کو جائز قرار دیا ہے۔

         صورت مسئولہ کے مطابق اگر  گاہک مہیا کرنے والے کو اس  عمل کے عوض  اجرت کی تعیین کی گئی ہو تو اس کی حیثیت دلال کی ہوگی  لہذا  گاہک کی فراہمی پر دوکاندار سے اجرت وصول کرنا درست ہوگا  تاہم  دلال کے لیے اس بات کی رعایت نہایت ضروری ہے کہ وہ گاہک کی رہنمائی کر نے میں جھوٹ اور دھوکہ دہی سے اجتناب کرے ۔

 

عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر على صبرة من طعام فأدخل يده فيها فنالت أصابعه بللا فقال يا صاحب الطعام ! ما هذا ؟ قال أصابته السماء يا رسول الله ! قال أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس ؟ ثم قال من غش فليس منا. (سنن الترمذي ، كتاب البيوع ، باب ماجاء فى كراهية الغش فى البيوع، رقم الحدیث: 1315 ،ج:3، ص:606)

وفي الحاوي سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار فقال أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز فجوزوه لحاجة الناس إليه. (رد المحتار على الدر المختار ، كتاب الاجارة ،  باب ضمان الاجير ،ج:9، ص:87)


فتویٰ نمبر : 3241/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں