بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

حیض کی حالت میں بیوی سے استمتاع کاحکم


سوال

کیا حیض و نفاس کی حالت میں غیر شرم گاہ یعنی فرج کے علاوہ  میں جماع کرسکتے ہيں یا نہیں ؟

جواب

حیض کی حالت میں جماع کی حرمت قرآن مجید سے ثابت ہے اس لیے حیض کے دوران جان بوجھ کر جماع کرنا گناہ کبیرہ ہے اسی طرح دوران حیض عورت کے ناف سے لیکر گھٹنوں تک کے حصے سے بلا حائل استمتاع ناجائز ہے البتہ حائل کی صورت میں ناف سے گھٹنے تک کے حصے سے استمتاع کی گنجائش ہے اس حصے کے علاوہ عورت کے ساتھ بلا حائل بھی اختلاط اور بدن سے استمتاع جائز ہے۔

 

 قال الله تبارك وتعالى: ﴿فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ﴾ (سورة البقرة: 222)

وقربان ماتحت الازار اي ويمنع الحيض قربان زوجها ما تحت ازارها... وقد علم من عباراتهم انه يجوز الاستمتاع بالسرةوما فوقها، وبالركبة وما تحتها. (البحر الرائق كتاب الطهارة،باب الحيض ج:1ص: 342،345)


فتویٰ نمبر : 6621/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں