بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

شہد کو ڈبے کے ساتھ وزن کرنے کا حکم


سوال

ہم شہد کوڈبے کے ساتھ وزن کرکے فروخت  کرتے ہيں اس لیے کہ  ہمارے لیے مشکل ہوجاتا ہے کہ ہم گاہک کو کہہ ديں کہ  1000 روپے ایک کلو شہد کے  اور 30 یا 40 روپے ڈبے کے ہيں حالانکہ  عام عرف میں اس طریقے پر شہد فروخت ہوتا  ہےکہ یہ ایک کلو کا ڈبہ ہے اور یہ دو کلو کاڈبہ ہے تو اس طریقے پر ڈبے کو شہد کے ساتھ وزن کرکے فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ناپ تول میں احتیاط کرنا شرعاً نہایت  ضروری ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق شہد کو ڈبے کے ساتھ فروخت کرتے وقت  ایک کلو کے ڈبے میں پوراایک کلو شہد ڈالنا  لازمی ہے اور  اگر   شہد کا وزن  ایک کلو سے کم ہو اور اس کے ساتھ ڈبے کا وزن  شامل کر کے ایک کلو وزن پورا کیا گیا ہو تو اس صورت میں گاہک کو بتانا ضروری ہے کہ شہد کا وزن ایک کلو سے کم ہے لیکن  ہم نے ان  اس کو ڈبے کے ساتھ ایک کلو وزن  کیا ہے اس صورت میں  بائع اور مشتری کا آپس میں رضامندی سے عقد کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ،تاہم اگر کسی علاقے میں  یہ عرف ہو کہ ڈبے کو شہد کے ساتھ وزن کرکےتو لا جاتا ہو جس کے نتیجے میں شہد کا وزن ایک کلو سے کم جبکہ ڈبے کے ساتھ ایک کلو وزن بنتاہو تو عرفاً اس کی بھی گنجائش ہے۔

 

قال الله تعالي :وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ۔(الأنعام:152)

البيع مبادلة المال بالمال بالتراضی۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،كتاب البيوع،ج:4،ص:507)

المعروف عرفا كالمشروط شرطا۔(البحرالرائق ،كتاب الوكالة،باب التوكيل بإفاءجميع الحقوق واستفائها،ج:7،ص:150)


فتویٰ نمبر : 3240/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں