بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

بہن بھائیوں سے بات کرنے پربیوی کی طلاق کومعلق کرنا


سوال

ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ "اگرتم نے میری بہن بھائیوں سے بات کی توتم مجھ پرطلاق ہو"یہ الفاظ اس نے تین مرتبہ کہے ہیں ،اب اگر بیوی شوہرکی بہن بھائیوں سے بات کرتی ہے توکیا طلاق واقع ہوگی یانہیں ،اگر واقع ہوتی ہے تو اس سے کیسے بچاجاسکتاہے؟

جواب

اگر خاوند نے یہ کہا ہوکہ "اگرتم نے میری بہن بھائیوں سے بات کی توتم مجھ پرطلاق ہو"اور یہ الفاظ تین مرتبہ کہے ہوں توایسی صورت میں  بیوی کےخاوند کے بھائی بہن  سے بات چیت  کرنے سے تین طلاقیں واقع ہوں گی،تاہم فقہائے کرام نے طلاق مغلظہ سے بچنے  کے لیے یہ طریقہ بیان کیاہے  کہ شوہر بیوی کو ایک طلاق بائن دیدے ،عدت گزرنےکےبعدجب عورت آزاد ہوجائےتو پھر عورت شوہر کے بھائی بہن سے بات کرے،ایسی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی ،اور شرط ختم ہوجائے  گی شوہر پھر اس عورت سے نکاح کرلے اب تجدیدنکاح کے بعد اگر شوہر کے بھائی بہن سے بات کرےگی تو اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا، البتہ خاوند آئندہ دوطلاقوں کامالک ہوگا۔

 

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا۔(الفتاوى الهندية،ج:1،ص:420)

وإن وجد في غير الملك انحلت اليمين بأن قال لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق فطلقها قبل وجود الشرط ومضت العدة ثم دخلت الدار تنحل اليمين ولم يقع شيء كذا في الكافي.(الفتاوى الهندية،ج:1،ص:416)


فتویٰ نمبر : 6624/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں