بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

شوہر کی وفات کا علم نہ ہونے کی صورت میں عدت وفات کا حکم


سوال

شوہر کے انتقال کا بیوی کو علم نہ ہوا یہاں تک کہ دوسال سے زیادہ عرصہ گزرگیا، ابھی معلوم ہوا ہے تو اس عورت پر عدت ہوگی یا نہیں؟

جواب

            کسی شخص کے مرتے ہی اس کی بیوی کی عدت وفات کی مدت شروع ہو جاتی ہے، اگرچہ عورت کو اپنے شوہر کی وفات کا علم نہ ہو۔

           لہذا صورت مسؤلہ  کےمطابق جب عورت کو شوہر کی وفات کے دوسال بعد علم ہوجائےتو اس کی عدت گزرچکی ہے۔

 

(ومبدأ العدة بعد الطلاق و) بعد (الموت) ‌على ‌الفور (‌وتنقضي العدة وإن جهلت) المرأة (بهما) أي بالطلاق والموت لأنها أجل فلا يشترط العلم بمضيه سواء اعترف بالطلاق، أو أنكر.( الدر المختار، ‌‌كتاب الطلاق، ‌‌باب العدة، ج:3، ص:520)

(قوله و‌‌مبدأ العدة بعد الطلاق والموت) ‌يعني ‌ابتداء ‌عدة ‌الطلاق من وقته وابتداء عدة الوفاة من وقتها سواء علمت بالطلاق والموت أو لم تعلم حتى لو لم تعلم ومضت مدة العدة فقد انقضت؛ لأن سبب وجوبها الطلاق أو الوفاة فيعتبر ابتداؤها من وقت وجود السبب كذا في الهداية.( البحر الرائق، باب العدة، ج:4، ص:157)


فتویٰ نمبر : 6614/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں