بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا


سوال

اگر والدہ اپنی زندگی میں مملوکہ جائیداد(منقولی یاغیرمنقولی)اولاد میں سے کسی کودینا یافروخت کرنا چاہےتو کر سکتی ہے یا نہیں؟نیز ساری جائیدادکسی ایک وارث کو دینے سےوہ گنہگار ہوگی یا نہیں؟

جواب

            اپنی زندگی میں اپنا مال یا جائیداد  اولاد میں تقسیم کرنا ہبہ کہلاتا ہے ہبہ  میں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ تمام اولاد میں تقسیم برابری کیساتھ کی جائے بلا معقول وجہ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ نہ دیا جائے البتہ اگر کسی اولاد کے زیادہ نیک ، صالح اور باادب ہونے کی وجہ سےیا کسی کے معذور ہونے کی وجہ سے  اس کو زیادہ حصہ دے دیا جائے تو اس کی اجازت ہے ۔

           صورت مسؤلہ کے مطابق اگر والدہ اپنی زندگی میں مملوکہ جائیدادخواہ منقولی ہو یاغیرمنقولی ،اولاد میں سے کسی کودینا یافروخت کرنا چاہےتو کرسکتی ہے البتہ بلا کسی شرعی وجہ کے کسی کو کم اور کسی کو زیادہ حصہ دینے سے وہ گناہ گار ہوگی  ۔‌

 

كل ‌يتصرف ‌في ‌ملكه ‌المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير. انظر المادة (1197) .كما أنه لا يجبر من أحد على التصرف أي لا يؤمر أحد من آخر بأن يقال له: أعمر ملكك وأصلحه ولا تخربه ما لم تكن ضرورة للإجبار على التصرف كما ذكر في المواد (1317، 1318 ، 131 ، 1320)

ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا وروي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الهبة، الباب السادس: في الهبة للصغير، ج:4 ص: 416 )


فتویٰ نمبر : 5315/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں