بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

اسلحہ قبض کرانے کا تاوان


سوال

مفتی صاحب! زید کرم ایجنسی سے ایک کلاشنکوف بغیر لائنس کے پشاور لے جا رہا تھا، بکر نے پولیس کو زید کے بارے میں یہ اطلاع دی کہ زید کے پاس بغیر لائینس کے اسلحہ ہے، پولیس نے بروقت کاروائی کرکے زیدسے وہ کلاشنکوف ضبط کر لی ۔ مفتی صاحب!اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ بکر کے کہنے پر پولیس نے زید سے وہ کلاشنکوف پکڑ کے ضبط کر لی ایسی صورت میں بکر پر اس کلاشنکوف کی ضمان آتی ہے یا نہیں ؟ تحقیقی جواب دیگر مشکور فرمائیں۔

جواب

 

فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق  کسی چیز کے ضائع ہونے میں جب مباشر(چیز کو براہ راست ضائع کرنے والا) اور مسبب (سبب بننے والا)کا اجتماع آجائے تو ضمان مسبب کی بجائے  مباشر پر آتا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق  پولیس کا زید سے اسلحہ لینا اگر چہ بکر کی شکایت کی وجہ سے تھا  لیکن یہ فقط سبب کے درجہ میں ہے ،اور زید کا   بغیر لائسنس کے کلاشنکوف(اسلحہ) لے جانااس کا اپنا فعل  ہے جس کی وجہ سے اس کا کلاشنکوف پولیس نے ضبط کیا,لہذا بکر پر زید کے اسلحہ ضائع ہونے   کا کوئی ضمان نہیں آئے گا۔

 

ذكر البزدوي أنه لو سعى ‌إلى ‌السلطان فغرمه روي عن بعض علمائنا أنهم أفتوا بضمان الساعي وبعضهم فرقوا بين سلطان وسلطان بأنه إذا كان معروفا بتغريم من سعى إليه ضمن وإلا فلا قال: ونحن لا نفتي به فإنه خلاف أصول أصحابنا إذ السعي سبب محض للإهلاك إذ السلطان يغرمه اختيارا لا طبعا.(مجمع الضمانات،ص:155،باب فى إتلاف مال الغير وإفساده مباشرة وتسببا،دارالكتاب الاسلامى)

لو فعل واحد فعلا  يكون سببا لتلف شيئ فحل فى ذالك الشيء فعل اختياري كأن جاء آخر فأتلفه مباشرةفالضمان على ذالك الفاعل المباشر صاحب الفعل الاختياري.يعني اذا اجتمع المسبب والمباشرأضيف إلى المباشر.(شرح المجلة لسليم رستم باز،المادة:925،ص:517،المطبعة الأدبية بيروت)


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں