بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ویڈیو کال سے حرمت مصاھرت کا ثبوت


سوال

اگر سسر اور بہو ویڈیو کال پر ایک دوسرے سے اظہار محبت کریں تو کیا مصاہرت قائم ہو گی؟

جواب

           فقہ حنفی کی رو سے حرمت مصاہرت  کے ثبوت کے لیے مخصوص شرائط ہیں،جب عورت مشتہاۃ(قابل شہوت)ہواورچھونا  اس حال میں ہو کہ غلبہ شہوت بھی ہو اور درمیان میں ایسا حائل بھی نہ ہو کہ  جو دونوں  کو ایک دوسرےکے بدن کی حرارت محسوس ہونے میں مانع ہو،اور اگر پہلے سے شہوت موجود ہو تو چھوتے وقت اس میں مزید زیادتی آجائے،اسی طرح  عورت  کو چھونے میں قلبی میلان اور رغبت مجامعت  کوبھی شرط  قرار دیا گیا گیا ہے ۔

           لہذا صورتِ مسؤلہ میں مذکورہ بالا شرائط موجود نہ ہونے کے وجہ سے ویڈیو کال کے ذریعےاظہارِمحبت کرنےسے حرمتِ مصاھرت ثابت نہیں ہوتی۔

 

المس ‌إنما ‌يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقا لا يجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت، كذا في الذخيرة. . . ويشترط أن تكون المرأة مشتهاة،(الفتاوى الهندية،كتاب النكاح،الباب الثالث في بيان المحرمات،القسم الثاني المحرمات بالصهرية،ج:1،ص:275،دار الفكر)

وما ‌ذكر ‌في ‌حد ‌الشهوة من أن الصحيح أن تنتشر الآلة أو تزداد انتشارا هو قول السرخسي وشيخ الإسلام وكثير من المشايخ لم يشترطوا سوى أن يميل قلبه ويشتهي جماعها.(تبيين الحقائق،كتاب النكاح،فصل في المحرمات،ج:2،ص:107،دار الكتاب الإسلامي)

ويشترط وقوع الشهوة عليها لا على غيرها لما في الفيض لو ‌نظر ‌إلى ‌فرج بنته بلا شهوة فتمنى جارية مثلها فوقعت له الشهوة على البنت تثبت الحرمة، وإن وقعت على من تمناها فلا. (ردالمحتار على الدر المختار،كتاب النكاح،فصل في المحرمات،ج:3،ص:33،دار االكتاب الاسلامى)


فتویٰ نمبر : 6615/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں