بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

مسبوق کا امام کے ساتھ سجدہ سہو کا سلام پھیرنا


سوال

اگر امام نے سجدہ سہوکےلیےایک طرف سلام پھیرا اوردو سجدےکیے،اسی امام کے ساتھ مسبوق نے بھی ایک طرف سلام پھیردیااور پھر اپنی نماز مکمل کی تو کیا مسبوق کی نماز ہوجائے گی؟

جواب

           واضح رہے کہ مسبوق کو اگر یاد ہو کہ اس کے ذمے کچھ رکعات باقی ہیں،اس کے باوجود وہ سجدہ سہو سے پہلےوالے سلام پر امام کے ساتھ سلام پھیردے تو اس  کی نماز فاسد ہوجائے گی ،نئے سرے سے نماز ادا کرنا لازم ہوگا۔لیکن اگر اس نے بھولے سے امام کے ساتھ سلام پھیردیا تو نماز فاسد نہیں ہوگی،اور نہ ہی اس سلام کی وجہ سے سجدہ سہو لازم ہوگا۔کیونکہ مسبوق سجدہ سہو کے سلام کے وقت مقتدی ہے اور مقتدی کے سہو کی وجہ سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا،البتہ اپنی بقیہ نماز پوری کرتے ہوئے کوئی سہو ہوجائے تو سجدہ سہو واجب ہوگا۔

 

(قوله والمسبوق يسجد مع إمامه) قيد بالسجود لأنه لا يتابعه في السلام، بل يسجد معه ويتشهد فإذا سلم الإمام قام إلى القضاء، فإن سلم فإن كان عامدا فسدت وإلا لا، ولا سجود عليه إن سلم سهوا قبل الإمام أو معه؛ وإن سلم بعده لزمه۔(رد المحتار،باب سجود السهو،ج:2،ص:82)


فتویٰ نمبر : 9398/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں