بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

سرکاری نوکری کے دوران دوسرے کام کی اجرت لینا


سوال

ایک آدمی  سرکار کی طرف سے سکول میں چوکیدار ہے اور وہ چوکیداری کے وقت لوگوں کے لیے کھانا پکا کر لوگوں سے اس کی الگ اجرت لیتا ہے توکیا اس کے لیے کھانا پکانے کی اجرت لینا جائز ہے؟

جواب

            سرکاری ملازم اجیر خاص کے حکم میں ہے جس کے لیے مقررہ وقت میں متعین کام کے علاوہ دوسرے کام میں مشغول ہونا جائز نہیں۔

            لہذا صورت مسئولہ میں جب ایک سرکاری ملازم کی ذمہ داری چوکیداری کرنی ہے تو ڈیوٹی کے اوقات میں کسی کےلیےکھانا پکاکر اس کی اجرت لینا جائز نہیں ۔

 

وليس للخاص أن يعمل لغيره وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل... وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الإجارة، مبحث الأجير الخاص، ج:9، ص:96)


فتویٰ نمبر : 5306/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں