بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ہيٹر كے سامنے نماز پڑهنا


سوال

 سردیوں کے موسم میں مساجد میں گیس کے ہیٹر لگائے جاتے ہیں۔بعض لوگوں کے دلوں میں یہ بات ہے کہ یہ آگ کو سجدہ کرنے کے کے مترادف ہے تو کیا اس سے نماز پر کوئی اثر پڑتا ہے؟

جواب

 نماز میں نمازی کے سامنے اگر گیس کا ہیٹر لگاہو جیسا کہ سردیوں میں مساجد میں اس کے جلانے کا رواج ہے تو اس سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا  اور نہ ہی یہ آگ کو سجدہ کرنے کے مترادف ہے۔نمازی کے سامنے اگر شمع یا چراغ جل رہا ہو تو اس کو بھی فقہاء  کرام ﷭نے آگ کو سجدہ کرنے کے مترادف قرار نہیں دیا،حالانکہ ان کا آگ ہونا ہیٹر کے مقابلے میں زیادہ واضح ہے۔

لہذا اگرہیٹر کسی نمازی کے سامنے ہو تو اس کو بغیر کسی شبہ کے اپنی نماز پڑھ لینی چاہیے۔

 

(و) لا يكره (صلاة إلى ظهر قاعد)۔۔۔۔ (و) لا إلى (مصحف ۔۔۔ أو سيف مطلقا أو شمع أو سراج أو نار۔وقال الشامي: وعدم الكراهة هو المختار كما في غاية البيان (ردالمحتار على الدرالمختار:كتاب الصلاة،با ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،ج:2،ص:422)


فتویٰ نمبر : 9390/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں