بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

بالوں کی خرید وفروخت


سوال

آج کل حجام حضرات لوگوں کے بال کاٹ کر پھینک دیتے ہیں، بعض لوگ اس کو بطور کھاد کھیتوں میں استعمال کرتے ہیں اوربعض لوگ اس کی خرید و فروخت کرتے ہیں تو کیا بالوں کی خرید و فروخت جائز ہے؟

جواب

شریعت اسلامی  نے انسان کے اعضاء کے احترام کا درس دیا ہے چاہے وہ اعضاء انسانی بدن کیسا تھ متصل ہوں یا اس سے جدا ہوں۔

صورت مسئولہ میں انسان کے کٹے ہوئے بالوں کو کھاد کے طور پر استعمال کرنا یا اس کی تجارت کرنا جائز نہیں، ایسے بالوں کو دفن کر نا چاہیے اور اگر دفن کر ناممکن نہ ہو تو ایسی  جگہ ڈالنا چاہیئے جہاں اس کی بے حرمتی نہ ہو۔

 

لا يجوز بيع شعور الإنسان ولا الانتفاع بما لأن الأدمي مكرم لا مبتذل فلا يجوز أن يكون شيء من أجزائه مهانا ومبتذلا. (الہدایۃ:کتاب البیوع،ج:3،ص:57)

ينبغي أن يدفن ذلك الظفر والشعر المجزوز فإن رمى به فلا بأس وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل يكره ذلك لأن ذلك يورث داء-(الفتاوی الہندیۃ:الباب التاسع عشر فی الختان والخصاء،ج:5،ص:358)


فتویٰ نمبر : 3234/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں