بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

موٹی ناک کو سرجری کے ذریعہ درست کروانے کا حکم


سوال

كيا شريعت ميں  کاسمیٹک سرجری جائز ہے یانہیں؟کیونکہ میری ناک کافی موٹی ہے، لوگوں نے مشورہ دیا کہ میں کاسمیٹک سرجری کروا لوں تاکہ میرا چہرہ خوبصورت لگ سکے ،لہذاکیا اسلام مجھے اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ میں کاسمیٹک سرجری کروا کے اپنے چہرے کے خدوخال میں بہتری کرواسکوں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر پیدائشی طور پر یا کسی مرض یا حادثے کی وجہ سے جسم میں کوئی عیب پیدا ہوگیا ہوجو بدہیئت اور بدنما معلوم ہوتا ہو، نیزوہ عیب عمر کا تقاضہ بھی نہ ہوتو اس عیب کے ازالہ کے لیے کیمیکل یا سرجری کی بقدر ضرورت گنجائش ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی ناک  اتنی زیادہ موٹی ہو کہ عادتاً لوگوں کی ناک جيسی نہ ہو اور چہرے کی ساخت کی نسبت واقعتاً بدہیئت اور عیب  دارمعلوم ہوتی ہو جس کی وجہ سے معاشرہ میں رہنا اور چلنا پھر نفسیاتی طور پر باعثِ اذیت ہو تو اس کی ساخت معتدل کرنے کے لیے كاسمٹك سرجری کروانے کی گنجائش ہوگی، البتہ اگر ناک کی خلقت فطرت و عادت کے موافق ہو تو اس میں مزید حسن و نکھار پیدا کرنے کے لیےكاسمٹك سرجری کروانا جائز نہیں۔

 

قال اللہ تعالی:﴿لَعَنَهُ اللَّهُ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا  وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ وَمَنْ يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُبِينًا﴾(النساء:118، 119)

عن عبد الرحمن بن طرفة، أن جده عرفجة بن أسعد، «قطع أنفه يوم الكلاب، فاتخذ أنفا من ورق، فأنتن عليه، فأمره النبي صلى الله عليه وسلم، فاتخذ أنفا من ذهب. (سنن أبي داود، باب ما جاء في ربط الأسنان بالذهب، رقم الحديث: 4232، ج:2، ص:92)

وَهَذِهِ الْأُمُورُ كُلُّهَا قَدْ شَهِدَتِ الْأَحَادِيثُ بِلَعْنِ فَاعِلِهَا وَأَنَّهَا مِنَ الْكَبَائِرِ. وَاخْتُلِفَ فِي الْمَعْنَى الَّذِي نُهِيَ لِأَجْلِهَا، فَقِيلَ: لِأَنَّهَا مِنْ بَابِ التَّدْلِيسِ. وَقِيلَ: مِنْ بَابِ تَغْيِيرِ خَلْقِ اللَّهِ تَعَالَى، كَمَا قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ، وَهُوَ أَصَحُّ، وَهُوَ يَتَضَمَّنُ الْمَعْنَى الْأَوَّلَ. ثُمَّ قِيلَ: هَذَا الْمَنْهِيُّ عَنْهُ إِنَّمَا هُوَ فِيمَا يَكُونُ بَاقِيًا، لِأَنَّهُ مِنْ بَابِ تَغْيِيرِ خَلْقِ اللَّهِ تَعَالَى، فَأَمَّا مالا يَكُونُ بَاقِيًا كَالْكُحْلِ وَالتَّزَيُّنِ بِهِ لِلنِّسَاءِ فَقَدْ أَجَازَ الْعُلَمَاءُ ذَلِكَ مَالِكٌ وَغَيْرُهُ، وَكَرِهَهُ مَالِكٌ لِلرِّجَالِ.(تفسير للقرطبي، سورة النساء، آية:119، ج:5، ص:393)


فتویٰ نمبر : 5299/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں