بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

تین ہزار آٹھ سو تئیس آبادی پر مشتمل علاقے میں نمازِ جمعہ کا حکم


سوال

 ضلع بنوں کے شہر کی متعین حدود سے تقریباً ڈیڑھ میل کے فاصلے پر ایک علاقہ واقع ہے، جس کا نام گریڑھ ہے۔ اس علاقے کی تفصیل یہ ہے کہ اس کی کل آبادی 3823 نفوس پر مشتمل ہے جو کہ غم اور خوشی میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ بیشتر ضروریات زندگی بھی موجود ہیں، مثلاً: ایک عدد سرکاری پٹوار خانہ، مرغی فارم، متعدد مدارس، پانچ مساجد اور پانچ سکولز وغیرہ موجود ہیں۔آنجناب سے اس بارے میں استفتا کی جاتی ہے کہ  کیا موضع گریڑھ مصر، قصبہ یا قریہ کبیرہ ہے کہ نہیں؟

جواب

نماز جمعہ کی جواز کے لیے چند شرائط میں سے ایک شرط مصر(شہر)، فناے مصر یا قریہ کبیرہ (بڑے گاؤں) کا ہونا ہے۔ موجودہ زمانے میں جس گاؤں کی مستقل آبادی دو ڈھائی ہزار تک پہنچتی ہو، اور وہاں پر ضروریات زندگی بھی مہیا ہوں تو وہ بڑا گاؤں شمار کیا جائے گا اور وہاں پر نماز جمعہ کی ادائیگی جائز ہوگی۔

 لہذا صورت محررہ کے مطابق اگر واقعی موضع گریڑھ کی آبادی 3823 نفوس پر مشتمل ہواور وہاں ضروریات زندگی بھی دستیاب ہوں تو یہ بڑے گاؤں کی زمرے میں شمار کیا جائے گااور اس میں نماز جمعہ کی ادائیگی جائز ہوگی۔

 

تقع ‌فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق. (رد المحتار على الدر المختار، ج:2، ص:138، دار الفكر، بيروت)


فتویٰ نمبر : 9385/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں