بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

خلاف شرع مجالس میں شرکت کرنا


سوال

 كيا کسی مفید علم  سیکھنے کی ایسی مجالس میں شرکت کرنا جائز ہے جن میں مرد و زن کا اختلاط ہو اور فلم بندی بھی کی جاتی ہو؟

جواب

ایسی مجالس جن میں خلاف شرع امور کا ارتکاب ہورہا ہو ،ان میں شرکت کرنے کے بارے میں قدرے تفصیل ہے کہ   اگر کوئی شخص ایسی خلاف شرع مجلس میں  حاضر ہوا اور حاضری کے بعد اس کو معلوم ہوا  کہ مجلس خلاف شرع امور پر مشتمل ہے تو اگر وہ ان کو منع کرنے پر قادر ہو تو ان کو منع کرے اور اگر وہ منع کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو صبر کرے ۔یہ  تفصیل تب ہے جب وہ ایک عام آدمی ہو ، اگر وہ عام آدمی نہ ہو،  بلکہ معاشرے میں ایک باوقار شخصیت اور لوگوں کے لیے مقتدی ٰ کی حیثیت رکھتا ہو تو پھر اگر وہ ان کو منع کرنے پر قادر نہ ہو تو وہ فوری طور پر اس مجلس کو چھوڑے گا۔ البتہ اگر اس کو حاضری سے پہلے منکرات کا علم ہوگیا تو پھر کسی بھی حال میں اس کے لیے شرکت کرنا جائز نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق جن مجالس میں شرعی حدود وقیود کی رعایت نہ ہوتی ہو، تو ان میں شرکت سے اجتناب کرنا لازم ہے، البتہ اگر کسی کے لیے شرکت کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہوتو اس کے لیے شرکت کرنے کی گنجائش ہے، تاہم اس کو چاہیے کہ وہ بقدر استطاعت ان کو منع کرے وگرنہ کم ازکم دل سے برا مانے ۔ یوں امید ہے کہ اس کا مواخذہ نہ ہو۔

 

قال: "ومن ‌دعي ‌إلى ‌وليمة أو طعام فوجد ثمة لعبا أو غناء فلا بأس بأن يقعد ويأكل"... وهذا لأن إجابة الدعوة سنة. قال عليه الصلاة والسلام: "من لم يجب الدعوة فقد عصى أبا القاسم" فلا يتركها لما اقترن بها من البدعة من غيره، كصلاة الجنازة واجبة الإقامة وإن حضرتها نياحة، فإن قدر على المنع منعهم، وإن لم يقدر يصبر، وهذا إذا لم يكن مقتدى به، فإن كان مقتدى ولم يقدر على منعهم يخرج ولا يقعد؛ لأن في ذلك شين الدين وفتح باب المعصية على المسلمين... وهذا كله بعد الحضور، ولو علم قبل الحضور لا يحضر؛ لأنه لم يلزمه حق الدعوة، بخلاف ما إذا هجم عليه؛ لأنه قد لزمه، ودلت المسألة على أن الملاهي كلها حرام حتى التغني بضرب القضيب... إلخ. (الهداية في شرح بداية المبتدي، ج:4، ص:365، دار إحياء التراث العربي، بيروت)

وتتعلق بها قواعد:‌‌ الأولى: ‌الضرورات تبيح المحظورات،ومن ثم جاز أكل الميتة عند المخمصة، وإساغة اللقمة بالخمر، والتلفظ بكلمة الكفر للإكراه وكذا إتلاف المال، وأخذ مال الممتنع الأداء من الدين بغير إذنه ودفع الصائل، ولو أدى إلى قتله. (الأشباه والنظائر لابن نجيم، ص:73، دارالكتب العلمية، بيروت)


فتویٰ نمبر : 5301/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں