بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مدرسہ کے لیے وقف شدہ زمین سے رجوع کرنا


سوال

ہمارے گھر کے پاس دینی مدرسہ ہے وہ جس زمین میں زیر تعمیر ہے وہ زمین سب ایک مالک کی ہے مدرسہ زمین کے آدھے یا تیسرے حصے تک تعمیر ہے بقایا زمین مالک کی ہے اب زمین کا آخری حصہ یا تیسرا یا چوتھا حصہ جس کی طرف اپنا ذاتی راستہ کوئی نہیں ۔شمال کی طرف مدرسہ درمیانی حصہ مالک کا آخری حصہ میرا ہے میں نے اس ما لک کے ساتھ بدلہ ہوا ہے ۔ اب میں نے اپنی زمین کا حصہ مدرسہ کے لیے وقف کردیا۔ جس دن نشاندہی کے لیے چونا ڈال رہا تھاکہ ہم وقتی مدرسہ کے لیےکوارٹر بنا لیتے ہیں اس دوران اس زمین کے قریب گھر والا آیا کہ یہاں مدرسہ کے لیے کچھ بھی تعمیر نہیں کرسکتے ہو ۔ مختصر یہ کہ بات قتل و غارت اور فساد کی طرف  بڑھ رہی تھی۔اب کیا یہ زمین ہم بیج سکتے ہیں یا اس کاتبادلہ کرسکتے ہیں؟

جواب

          واضح رہے كہ جب زمين كسى خاص مصرف كے ليے وقف كى جائے اور وقف تام ہو جائےتو پھر اس موقوفہ زمين کو دوسرے مصارف ميں استعمال نہيں كيا جا سكتااور نہ اس کا تبادلہ کرنا جائز ہے،تاہم اگر وقف تام نہ ہوا ہو توواقف کے لیے وقف سے رجوع کرنے کی گنجائش ہے۔

       صورت مسئولہ ميں اگر مدرسہ کے لیےموقوفہ زمين میں تعلیمی سلسلہ شروع نہ ہوا ہوتوواقف کے لیے اس زمین کوبیچنا یااس کا تبادلہ کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔

 

 الوقف إخراج المال عن الملک علی وجه الصدقة، فلایصح بدون التسلیم کسائر التصرفات۔ (بدائع الصنائع، کتاب الوقف ،ج:5،ص:328 )

وتسليم كل شيء بحسبه، ففي المقبرة بدفن واحد وفي السقاية بشربه وفي الخان بنزوله كما في الإسعاف۔(ردالمحتار ، كتاب الوقف ، ج: 6 ص: 546 ، دارالكتب العلمية)


فتویٰ نمبر : 5297/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں