بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

بچپن میں کی ہوئی چوری کی رقم لوٹانے کا طریقہ


سوال

 میں  نے بچپن میں دو دوستوں کے ساتھ مل کر بکری چوری کی تھی لیکن مالک کا پتہ نہیں ہے، تو اب میں کس طرح اور کس کو پیسے دوں؟

جواب

اگر کم عمری اور نادانی میں چوری کرنے سے مراد بلوغت سے پہلے کا زمانہ ہے تو  نابالغ ہونے کی صورت میں مکلف نہ ہونے کی وجہ سے بلوغت سے پہلے کی گئی چوری کا گناہ تو نہیں ہوتا، تاہم گناہ نہ ہونے کے باوجود شرعی طور پر بچہ کے ذمے سے متاثر ہونے والے شخص (یعنی جس سے  بکری چوری کی گئی ہے) کا حق ساقط نہیں ہوتا، بلکہ اس کا حق بدستور ذمے پر برقرار رہتا ہے، جس کی ادائیگی کا طریقہ کار یہ ہے کہ اگر مالک معلوم ہو تو اس بکری کی رقم اس کے مالک کوپہنچا دے،  البتہ اگر  مالک معلوم نہ ہو تو چوری کی ہوئی بکری کی رقم   بلا نیتِ ثواب غرباء پر تقسیم کرے، تو ان شاء اللہ تعالیٰ عنداللہ ذمہ بری ہوجائےگا۔

 

عن عائشة رضي الله عنها، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " رفع القلم عن ثلاثة: عن النائم حتى يستيقظ، وعن المبتلى حتى يبرأ، وعن الصبي حتى يكبر "(سنن ابی داؤد، کتاب الحدود، باب في المجنون يسرق أو يصيب حدا، رقم الحدیث: 4398، ج:2، ص:139)

"قال شیخنا: ویستفاد من کتب فقهائنا کالهدایة و غیرها: أن من ملك بملك خبیث، و لم یمكنه الرد إلى المالك، فسبیله التصدقُ علی الفقراء ... قال: و الظاهر أنّ المتصدق بمثله ینبغي أن ینوي به فراغ ذمته، ولایرجو به المثوبة."(معارف السنن، أبواب الطهارة، باب ما جاء: لاتقبل صلاة بغیر طهور، ج:1، ص:34)


فتویٰ نمبر : 5298/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں