بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

اجیر خاص کا دوسرے سے ڈیوٹی کراکر تنخواہ لینا


سوال

ایک شخص  کوسرکاری  سکول میں چوکیداری کی ملازمت ملی ہےلیکن جس    سکول میں سرکاری ملازمت ملی ہےاس سکول کی عمارت بھی  ابھی تک نہیں بنی اور نہ ہی وہاں پانی کا کوئی نظام ہےتو اس شخص نے اپنی جگہ کسی دوسرے شخص کی تنخواہ مقرر کر کے اس کواپنی جگہ کھڑا کیا ہےتو کیا اس شخص کے لیے سرکاری تنخواہ لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

             واضح رہے کہ سرکاری ملازمین کی حیثیت اجیر خاص کی ہوتی ہےاور اجیر خاص کے لیے ملازمت کے اوقات میں جائے ملازمت میں خود حاضر رہناضروری ہوتا ہےاور اسی بنا پر وہ اجرت کا مستحق ٹھہرتا ہے ۔

              صورت مسئولہ کے مطابق اگر مذکورہ شخص حکومت کی طرف سے مقررہ  اوقات  میں خود  ڈیوٹی سر انجام نہ دیتا ہو بلکہ اپنی جگہ کسی دوسرے شخص کوتنخواہ پر مقرر کرکے اس سے ڈیوٹی کراتا ہو توایسی صورت میں اس شخص کے لیے  تنخواہ لینا جائز نہیں۔  

 

والأجير الخاص الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم.(الهداية،كتاب الإجارة،باب ضمان الأجير،ج:3،ص:243)


فتویٰ نمبر : 3236/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں