بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 21/10/2026 |
دارالافتاء
متعدد بار طلاق کے الفاظ کہنا
سوال
میری شادی کو تقریبا گیارہ سال ہوگئے ہیں، شادی کے دوسال بعدہی ہماری لڑائی شروع ہوگئی تھی کیونکہ میرے شوہر کے کچھ عورتوں کے ساتھ ناجائز تعلقات تھےجن کا انہوں خود بھی اقرار کیا ہے،اجنبی عورتوں کے ساتھ اپنی تصاویر بھی کبھی مجھے بھیجتے تھےاور کہتے تھے کہ مجھے آپ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، مجھے شروع دن سےآپ سے پیار نہیں ہے، آپ نے میرے ساتھ ایسے ہی رہنا ہے تو رہے ورنہ میں نے آپ کو کب کا آزاد کیا ہوا ہے،اور اگر اس کے بعد بھی تم میرے ساتھ رہو گی تو تم بہت بےغیرت ہوگی۔ پھر کچھ دیر بعد کہے کہ ہمارا آپس میں نبھا نہیں ہو سکتا، لہذا تم میری طرف سے آزاد ہو، میں اپنی طرف سے یہ الفاظ(طلاق کےلیے) نہیں بولوں گا ،پہل تم کروگی تم خلع کے کاغذات بھجوادو میں دستخط کردوں گا، میں تمھاری شکل پر لعنت بھیجتا ہوں، تمھارے منہ پر پیشا ب کرتا ہوں اور تمہیں کئی دفع چھوڑچکا ہوں، میں تم پرتھوک چکا ہوں،میں تمہیں سو دفعہ آزاد کرچکا ہوں۔ بعد میں وائس میسج پر کہے کہ میں کافی سرچ کررہا ہوں کہ اگر آپس کے تعلقات درست نہ رہتے ہوں تو علیحدگی کرلینی چاہیے،اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا ۔اور میں نے فیصلہ کرلیا ہےکہ اب اس رشتہ کو اور نہیں چلا سکتا،اس لیےہم الگ ہو جاتے ہیں ،بچوں کا خرچہ بھیجتا رہوں گا،جلد از جلد یہ رشتہ ختم کرو،میری طرف سے تم فری ہو،شادی کرنا چاہتی ہو یا کچھ اور، میری طرف سے فری ہو۔اور بعد میں اقرار کرتا ہو کہ میں ایک نہیں بلکہ ہزار دفعہ یہ کہا ہے کہ تم میری طرف سے فارغ ہواور یہ جملہ اس نے غصے کی حالت میں کہا ہے، لیکن ان الفاظ سے طلاق کی نیت نہیں تھی،اور یہ سب الفاظ بیوی کے مجبور کرنے کی وجہ سے کہے ہیں،اور اس کو معلوم نہیں تھا کہ ان الفاظ سے طلاق واقع ہوتی ہے۔ اب مطلب یہ ہے کہ ان لفاظ سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ،اگر ہوئی ہے تو کتنی؟ اور پہلی طلاق کب واقع ہوئی ہے؟
جواب
طلاق کےالفاظ دو قسم کے ہیں:صریح اور کنائی،صریح سے مر اد ایسے الفاظ ہیں جو صرف طلاق کے لیےاستعمال کئے جاتے ہوں،اس میں نیت کے بغیر طلاق واقع ہوتی ہےتاہم بعض الفاظ اصل معنی کے اعتبار سے کنائی ہیں لیکن عرف میں طلاق صریح کے لیےاستعمال ہونے کی وجہ سےالفاظ صریح کے حکم میں ہوتے ہیں اور کنائی سے مراد ایسے الفاظ ہیں جو طلاق کےساتھ کسی اور معنی کا بھی احتمال رکھتے ہوں،اس میں نیت کے بغیر طلاق واقع نہیں ہوتی۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر شوہر نے بیوی سے یہ الفاظ "میں نے آپ کو کب کا آزاد کیا ہوا ہے"کہے ہوں تو اس سے پہلی طلاق رجعی واقع ہوگئی ہےپھر اگر عدت ختم ہونے سے پہلے یا رجوع کے بعدیہ الفاظ"تم میری طرف سے آزاد ہو "کہے ہوں تو اس سے دوسری طلاق واقع ہوگئی ہے،اس کے بعداگر ان الفاظ "میں تمہیں کئی دفعہ چھوڑ چکا ہوں" سےسابقہ طلاق کی خبر دینا مراد ہو اور نئی طلاق کی نیت نہ ہو تو اس سے طلاق واقع نہ ہوگی البتہ اگر اس سے نئی طلاق کا ارادہ کیا ہوتواس سے تیسری طلاق بھی واقع ہوگی ۔اس جملے سے طلاق کے عدم وقوع کی صورت میں اس کے بعد"میں تمہیں سو دفعہ آزاد کرچکا ہوں"سے تیسری طلاق واقع ہوکر بیوی مطلقہ مغلظہ ہوگئی ہےلہذا شوہر کا بیوی سے ازدواجی تعلقات قائم رکھنا جائز نہیں ہے۔
الصريح (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) و(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف)-الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب، (الدر المختار،كتاب الطلاق، باب الصريح و الكنايات، ص:214)
لو أراد به الخبر عن الماضي كذبا لا يقع ديانة، وإن أشهد قبل ذلك لا يقع قضاء أيضا.)رد المحتار مع الدر المختار،كتاب الطلاق،فصل في المسائل اللتي تصح مع الإكراه،ج:3، ص:228)
وإذا قال:رہا کردم أي سرحتك، يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا،وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق،وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت.(رد المحتار مع الدر المختار،كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج:3،ص:299)
(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح :ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا. (رد المحتار مع الدر المختار،كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج:3، ص:306)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں