بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

ایک سے زائد وطن اصلی ہونا


سوال

ہمارا تعلق با جوڑسے ہے، اور ہماری جائیدادیں بھی وہاں  پر موجود ہیں  ، لیکن اب ہم مستقل طور پر کراچی میں رہائش پزیر ہیں ۔ہم نے سکونت کراچی میں اختیار کرلی ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ ایسی صورتحال میں جب ہم باجوڑ جائیں گے تو کیاہم مسافر شمار ہوں گے ؟ اگر کبھی فوتگی یا شادی کے موقع پر پندرہ دن سے کم کے لیے جانا پڑ جائے تو سفر کے احکام لاگو ہوں گے یا نہیں ؟ اور نماز قصر والی پڑھیں گے یا مکمل ؟

جواب

اگر کوئی شخص اپنے وطنِ اصلی  کے علاوہ  دوسری جگہ منتقل ہوجائے اور وہیں مستقل  طور پر  اہل وعیال کے ساتھ عمر گزارنے کی نیت کرلے، اور پہلی جگہ واپس مستقل رہائش کا  ارادہ نہ ہو تو    اس کا پہلا وطن اصلی ختم ہوجاتا ہے،  اور دوسری جگہ اس کا وطن اصلی بن جاتا ہے، اور  اگر پہلی جگہ  پر بھی مستقل یا سال کے بعض ایام میں رہائش کاارادہ ہو تو دونوں  جگہیں اس کے وطن اصلی شمار ہوں گے ۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے مستقل طور پر اپنے اہل و عیال کے ساتھ کراچی میں زندگی گزارنے کا ارادہ کیا ہو اور  دوبارہ باجوڑ میں رہائش کا بالکل ارادہ نہ ہو تو باجوڑ اس کا وطنی اصلی شمار نہیں ہوگا، البتہ اگر سال کے بعض ایام میں  باجوڑ میں بھی رہائش کاارادہ ہو تو اس صورت میں سائل کے لیے کراچی اور  باجوڑ دونوں وطن اصلی  شمار ہوں گے۔

 

وفي المحيط: ولو كان له أهل بالكوفة وأهل بالبصرة فمات أهله بالبصرة وبقي له دور وعقار بالبصرة، قيل: البصرة لا تبقى وطناً له؛ لأنها إنما كانت وطناً بالأهل لا بالعقار، ألا ترى أنه لو تأهل ببلدة لم يكن له فيها عقار صارت وطناً له، وقيل: تبقى وطناً له؛ لأنها كانت وطناً له بالأهل والدار جميعاً، فبزوال أحدهما لايرتفع الوطن، كوطن الإقامة تبقى ببقاء الثقل وإن أقام بموضع آخر. وفي المجتبى: نقل القولين فيما إذا نقل أهله ومتاعه وبقي له دور وعقار، ثم قال: وهذا جواب واقعة ابتلينا بها وكثير من المسلمين المتوطنين في البلاد ولهم دور وعقار في القرى البعيدة منها يصيفون بها بأهلهم ومتاعهم، فلا بد من حفظها أنهما وطنان له لا يبطل أحدهما بالآخر. (البحر الرائق، باب اقتداء مسافر بمقيم في الصلاة، ج:2، ص:147)


فتویٰ نمبر : 9383/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں