بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

نماز میں سورت بھول جانا


سوال

اگر ہم نماز میں کوئی  سورت بھول جائیں  تو کیا اس کے بدلے ہم کوئی دوسری سورت پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

              نمازمیں اگر کو ئی شخص  تلاوت کرتے ہوئےسورت  بھول جائے تو اگر وہ واجب قراءت کرچکا ہو تو اسے رکوع میں چلے جانا چاہیے اور اگر واجب قراءت نہ کی ہو تو دوسری سورت پڑھ  سکتاہے،البتہ   بھولے بغیرایک سورت شروع کرکے اسے چھوڑ کر دوسری سورت پڑھنا مکروہ ہے۔

 

افتتح سورة وقصد سورة أخرى فلما قرأ آية أو آيتين أراد أن يترك السورة ويفتتح التي أرادها يكره وكذا لو قرأ أقل من آية وإن كان حرفا ولو كبر للركوع في الصلاة ثم بدا له أن يزيد في القراءة لا بأس ما لم يركع. (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الفصل الخامس في زلة القارئ، ج:1، ص:79)

وكذا لو انتقل إلى آية أخرى من تلك السورة وترك بينهما شيئًا وأما إن حصر بعد تلك الآية قبل أن يتم سنة القراءة، فلا يكره الانتقال إلى آية أخرى من تلك السورة، أو من سورة أخرى للعلم هذا إن انتقل قصداً ، فإن انتقل من غير قصد ثم تذكر ينبغي أن يعود ذكر في القنية، وإن لم يعد فلاكراهة أيضا لعدم القصد. (الفتاوى التاتارخانية، كتاب الصلوة، الفصل الثاني في القراءة، ج:2،  ص:67)


فتویٰ نمبر : 9382/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں