بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

صلح کے بعد مزید خرچہ کا مطالبہ کرنا


سوال

ایک شخص نے دوسرے شخص کے پاؤں کو ایسا زخمی کیاجس کی وجہ سے اس کاایک پاؤں کاٹا گیا جس پر مجروح(زخمی شدہ) نے جارح (زخمی کرنے والے)کے ساتھ 12 لاکھ پر صلح کرلی لیکن  کچھ عرصہ بعد مجروح کے کٹےہوئے پاؤں میں ایسا زخم آیا جس پر اس کے لاکھوں روپےخرچ ہوئے،تو کیا زخمی شدہ شخص زخمی کرنے والے سے اس نئے علاج پر خرچ شدہ رقم کا مطالبہ کرسکتا ہے؟

جواب

                 اگر کوئی شخص قصداً کسی انسان کا عضو تلف کردے یا ایسا زخم لگائے جس کی وجہ سے وہ عضو بیکار ہوجائےتو  زخمی آدمی کو اس بات کا اختیار حا صل ہے کہ وہ قصاص لے لے( بشرطیکہ قصاص کی شرائط موجود ہوں) یا مال (دیت وغیرہ)پر صلح کر لےیا معاف کر دے، اگر زخمی شخص مال  پر  صلح کرلے تودوسرے شخص کے لئے اس رقم کا ادا کرنا ضروری ہے،تاہم طےشدہ رقم کے علاوہ مزید رقم کا مطالبہ کرنا جائز نہیں۔  

              صورت مسئولہ کے مطابق اگرزخمی شخص نےمذکورہ رقم پر صلح کرتے ہوئے مزید کسی قسم کی کوئی شرط نہ لگائی ہو تو ایسی صورت میں اس کے لیےنئے علاج پر خرچ شدہ رقم کا مطالبہ جائز نہیں۔

 

ولو صالحه من الجرح أو الجراحة أو الضربة أو القطع أو الشجة أو اليد على شيء، ثم برأ فالصلح جائز؛ لأنه أسقط بهذه الألفاظ حقه بعوض.(المبسوط للسرخسي،باب الصلح فى الجنايات،ج:21،ص:10)

والظاهر أنه بعد الحكم بموجبه من الأرش أو حكومة العدل لا يجب شيء.(رد المحتار على الدرالمختار،كتاب الجنايات،باب القود فيما دون النفس،ج:10،ص:214)         


فتویٰ نمبر : 5284/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں