بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

معذور کی نماز کا حکم


سوال

اگر کسی بندے کو قطروں کی بیماری ہو تو اس کے لیے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟نیز اس بندے نے اس بیماری کی وجہ سے کئی نمازیں چھوڑدی ہوں اور وہ یہ گمان کرتا ہو کہ اس بیماری کی وجہ سے اس کے لیے نماز پڑھنا معاف ہےتو شریعت کی رُو سے کیا حکم ہے؟

جواب

               اگر کسی شخص کو قطرے نکلنے کی بیماری ہواور اس پر کسی ایک نماز کا کامل وقت اس حالت میں گزر جائےکہ قطرے مسلسل نکلتے رہیں یعنی اتنی دیر کے لیے بھی بند نہ ہوں کہ وہ پاک حالت میں وضو کر کے نماز ادا کرسکےتو ایسا شخص معذور شمارہوگا۔  اوریہ اس وقت تک معذور شمار ہوگا جب تک اسے ہر نماز میں کم از کم ایک مرتبہ یہ عذر لاحق ہوتا رہے ۔ایسا شخص ہر نماز کے وقت کے لیے نیا وضو کر کےاس وقت کی تمام عبادات فرض ہوں یا نفل ادا کرسکتا ہے ۔البتہ نماز کا وقت گزرنے پر اس کا وضو ٹوٹ جائے گا۔

               علاوہ ازیں معذور شخص  کےلیے نمازکےدورانیہ میں اگر کپڑوں کو پاک رکھنا ممکن ہوتو  کپڑوں کی پاکی ضروری ہےلیکن اگر کپڑوں کو پاک رکھنا ناممکن ہو یعنی نماز کے دوران پھر نجس ہونے کا خدشہ ہو تو پھر ان کپڑوں کے ساتھ بھی نماز ہوجاتی ہے۔ اگر کسی شخص نے اس بیماری کی وجہ سے نمازیں نہ پڑھی ہوں یہ گمان کرتے ہوئے کہ نماز اس کے لیے معاف ہے تو ایسے شخص پرتوبہ واستغفار کے ساتھ  چھوڑی گئی تمام نمازوں کی قضاء لازم ہے۔

 

(‌وصاحب ‌عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة)بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل.(وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه، ونحوه (لكل فرض ثم يصلي فيه فرضا، ونفلا...فإذا خرج الوقت بطل)أي ظهر حدثه السابق.(الدر المختار على صدر ردالمحتار،كتاب الطهارة،باب الحيض،ج:1،ص:504۔506)

كل صلوة فاتت عن الوقت بعد وجوبهافيه يلزمه قضاء،سواء ترك عمدا أو سهوا أو بسبب نوم،وسواء كانت الفوائت كثيرة أو قليلة.(الفتاوى الهندية،كتاب الصلوة،الباب الحادي عشرفي قضاءالفوائت،ج:1،ص:121)  


فتویٰ نمبر : 9375/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں