بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

سپورٹس کے لیے مختص شدہ فنڈ دوسرے مد میں استعمال کرنا


سوال

سرکاری اسکولوں میں پرنسپل ایک مخصوص فنڈ مثلا اسپورٹس وغیرہ کے لئے مختص فنڈ دوسرے مد میں استعمال کر سکتا ہے یا نہیں ؟

جواب

سرکاری فنڈ جس مد کے لیے  مختص کیا گیا ہو  اسی مد میں استعمال کرنا  لازم ہوتا ہے اس کے علاوہ کسی مد میں استعمال جائز نہیں ،البتہ کوئی فنڈ اگر صوابدیدی اختیار کے ساتھ کسی صاحب منصب  کے حوالہ کیا گیا ہو تو اس کے صوابدیدی اختیارات کے مطابق اس فنڈ کو مفاد عامہ کے لیے کسی بھی جگہ صرف  کرنا جائز ہوگا۔

صورت مسئولہ میں اگرحکومت کی طرف سے پرنسپل کو سپورٹس کےفنڈزدوسرےمدات میں استعمال کرنے کی اجازت ہو توپھر اس کا استعمال کرنا جائز ہوگا اور اگراس کو صرف سپورٹس  میں استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہو تو پھر اس کو دوسرے مدات میں استعمال کرنا جائز نہیں۔

 

"الوکیل انما یستفید التصرف من الموکل وقد امرہ بالدفع الی غیرہ کما لو اوصی لزید بکذا لیس للوصی الدفع الی غیرہ فتامل" (ردالمحتار علی الدرالمختار ،کتاب الزکوۃ ،ج:3 ،ص:189)

"واذا اراد ان یصرف شیئا من ذالک ۔۔۔ فلیس لہ ذالک الا ان کان الواقف شرط فی الوقف"(الفتاوی الھندیۃ الفصل ،الثانی فی الوقف ،ج:2 ،ص:463)


فتویٰ نمبر : 5309/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں