بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا


سوال

اگرکسی شخص کا انتقال اپنے شہر سے دور ہو جائے تو اسکی میت کو اپنے شہر میں لے کر آنا مکروہ تحریمی ہے یا مکرہ تنزیہی ۔ ملک کے ایک مشہور دارالافتاء والے لکھتے ہیں کہ "شرعی عذر کے بغیر ایک جگہ سے دوسری جگہ  یا دو میل سے زیادہ دور لے جانے کو فقہاء کرام نے مکروہ لکھاہے۔آگے اسی فتوی کے اندر لکھتے ہیں کہ میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے عمل کو مکروہ تحریمی لکھا ہے مفتی صاحب جمہور  فقہاء احناف کے نزدیک تحقیقی بات کیا ہے؟

جواب

               فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق بہتر یہ ہے کہ آدمی کا انتقال جس جگہ پر ہو جائےاسی جگہ قریب قبرستان میں اس کو دفن کیا جائے البتہ امام محمدؒنےایک میل یا دومیل کی مسافت پر منتقل کرنے کو جائز کہا ہے ۔ ابن عابدین ؒنے اس قول کی توجیہ یہ کی ہے۔کہ "قبرستان عمومااتنے فاصلے پر ہوتاہے ۔"اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی جگہ قبرستان اس سے زیادہ مسافت پر ہو یا اس شہر /بستی میں کوئی وقف قبرستان نہ ہو تو دوسری جگہ وقف قبرستان تک میت کو لے جانا جائز ہےچاہے وہ دو میل سے زائد فاصلے پر بھی ہو۔تا ہم اگر کوئی عذر نہ ہو تو پھر فقہائے کرام نے دو میل سے  زیادہ مسافت پر میت کو منتقل کرنے کو مکروہ تحریمی کہا ہے۔کیونکہ اس سے تدفین میں تاخیر ہوتی ہے ۔نیز یہ بھی واضح رہے کہ فقہاء نے چار اغراض کی بنا پر ایک جگہ سے دوسری جگہ میت منتقل کرنے کوجائز لکھا ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:

(1)حرمین شریفین میں سے کسی  ایک کی طرف منتقل کرنا۔

(2)انبیاءعلیھم الصلاۃوالسلام میں سے کسی ایک کی قبر کے قریب منتقل کرنا ۔

(3)اولیاءاللہ میں سے کسی کی قبر کے قریب منتقل کرنا۔

(4)اس لئے منتقل كرناکہ وہاں زیادہ لوگ قبر کی زیارت کر سکیں گے اور ایصال ثواب کر سکیں گے۔

 

فإذا ‌كان ‌يترتب ‌عليه فائدة من نقله إلى أحد الحرمين أو إلى قرب قبر أحد من الأنبياء، أو الأولياء، أو ليزوره أقاربه من ذلك البلد، وغير ذلك، فلا كراهة(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، علي بن سلطان محمد،كتاب الجنائز،باب دفن الميت، الفصل الثاني، ج:4، ص:184)

(قوله ولا بأس ‌بنقله ‌قبل ‌دفنه) قيل مطلقا، وقيل إلى ما دون مدة السفر، وقيده محمد بقدر ميل أو ميلين لأن مقابر البلد ربما بلغت هذه المسافة فيكره فيما زاد.(ردالمحتار على درالمختار ،كتاب الصلاة،باب صلاةالجنازة،ج:2،ص:146)

أما إذا أرادوا نقله قبل الدفن أو تسوية اللبن فلا بأس بنقله نحو ميل أو ميلين.قال المصنف في التجنيس: لأن المسافة إلى المقابر قد تبلغ هذا المقدار. وقال السرخسي: قول محمد بن سلمة ذلك دليل على أن نقله من بلد ‌إلى ‌بلد ‌مكروه، والمستحب أن يدفن كل في مقبرة البلدة التي مات بها۔(فتح القدير،فصل في الدفن،ج:2،ص:141)

نقل ‌من ‌بلد إلى بلد مكروه" أي تحريما لأن قدر الميلين فيه ضرورة ولا ضرورة في النقل إلى بلد آخر وقيل أيجوز ذلك إلى ما دون مدة السفر وقيل في مدة السفر أيضا(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، أحمد بن محمد بن إسماعيل الطحطاوي الحنفي، كتاب الصلاة، فصل في حملها و دفنها،ص614)


فتویٰ نمبر : 9374/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں