بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

قرض کی ادائیگی میں دوسری کرنسی دینا


سوال

میراایک کرایہ دار ہےجو میری دکان میں1996ء سے کاروبار کررہا ہے،میں نے اس سے وقتاً فوقتاً قرض لیے تھے،پھر2007ءمیں اس سے مزید قرض لے رہا تھاتو اس نےکہاکہ قرض دوں گا لیکن ادائیگی ڈالر کے حساب سے کرو گےاور میں اس پر راضی بھی ہوا۔اس کا کل قرضہ تقریباً دو لاکھ پچاس ہزار تھااور قرضہ دیتے وقت ڈالر کی قیمت 100روپے تھی،اب ڈالر کی قیمت230 ہے اور اس حساب سے وہ دس لاکھ مانگتا ہے۔کیا میں ڈالر کی قیمت 230 کے حساب سے قرضہ ادا کرنے کا پابندہوں؟

جواب

                شریعتِ مطہرہ کی رو سےمقروض قرض خواہ کو اس جنس میں قرض ادا کرنے کا پابند ہوتا ہےجس جنس میں اس نے قرض لیا ہو،لہٰذا اگر روپیہ میں قرض لیاہو تو روپیہ ادا کرنے کا پابندہوگا اور اگر ڈالر میں قرض لیا ہو تومقروض ڈالر میں قرض ادا کرنے پابند ہوگا۔

                صورت مسئولہ میں جب  کرایہ دار نے مالک ِدکان کو روپیہ میں قرض دیاتھاتوشرعا ً مقروض روپے ہی واپس  کرنے کا پابندہے۔اس وقت اگر یہ شرط لگائی تھی کہ واپسی میں ڈالر واپس کرنا ہوگا،تو یہ شرط شرعاً معتبر نہیں۔

 

لأن الديون تقضى بأمثالها فيجب للمديون على صاحب الدين عند القبض مثل ما كان له عليه(كشف الأسرار شرح أصول البزدوي،باب الأمور المعترضة على الأهلية،ج:4،ص:310)

وإن استقرض دانق فلوس أو نصف درهم فلوس، ثم رخصت أو غلت لم يكن عليه إلا مثل عدد الذي أخذه، وكذلك لو قال أقرضني عشرة دراهم غلة بدينار، فأعطاه عشرة دراهم فعليه مثلها، ولا ينظر إلى غلاء الدراهم، ولا إلى رخصها. (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، ج:7، ص:390)


فتویٰ نمبر : 3223/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں