بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

گاؤں ناریواہ پٹول خیل میں نماز جمعہ کا حکم


سوال

ہمارے گاؤں ناریواہ پٹول خیل میں گھروں  کی تعداد126 ہے،اور اس کی کل آبادی 1794مردوزن  پرمشتمل ہے،اس میں بالغ  مرد کی کل تعداد 640جبکہ عورتوں کی تعداد 559ہے،اوربچے بچیوں کی تعداد 595 ہے،اس گاوں میں کل چار دکانیں ہیں،ایک دکان کپڑوں کاہے  اور ایک ڈاکٹر ڈسپنسری کا دکان ہےان دکانوں میں چھوٹی چھوٹی ضروریات زندگی کاسامان ملتاہے،جبکہ مکمل ضروریات زندگی کے سامان  لینے کے لیےمختلف بازاروں میں لوگ جاتے ہیں اور یہ بازاردس کلو میٹر سے لیکر پینتالیس (45)کلو میٹر  کے فاصلےپرواقع ہیں ۔ہمارا گاؤں براستہ پکا سڑک شہر بنوں سےچالیس ،سرائے نورنگ بازار سےپینتیس(35)اورکرک شہرسے پچاس کلومیٹر کے فاصلے پرواقع ہےجہاں ہمارے گاؤں کی مکمل ضروریات زندگی پوری ہوتی ہے،ہمارے گاؤں  میں گاؤں''لنڈی جالندھر''بفاصلہ ڈھائی کلو میٹرواقع ہےجہاں گذشتہ چالیس سالوں سےپانچ مساجد میں نماز جمعہ جاری ہے،ہمارے گاؤں میں گاؤں''ڈنڈی وزیر''دوکلو میٹر پر واقع ہے جس  کے  دو مساجدمیں تیرہ  سالوں سے نمازجمعہ ادا ہورہاہےاسی طرح مشرق میں گاؤں ''مونا خیل''جوکہ دوکلو میٹر کے فاصلہ پر ہے اس میں گذشتہ دس سالوں سے نماز جمعہ اداہوتاہے،ان تمام جگہوں پر جب جمعہ کے لیے علمائےکرام کو بلائے گئے تو اس وقت علمائے کرام نے ہمارے گاؤں کو چھوٹا گاؤں شمار کیا،ہمارے گاؤں میں ایک پرائمری سرکاری اسکول ہے اور لڑکیوں کے لیے ایک مکتب پرائمری اسکول ہےاسی طرح گذشتہ چارسالوں سے ایک دینی مدرسہ بھی قائم ہے جس میں حفظ اور ناظرہ پر قرآن پڑھایا جاتاہے۔اس  گاؤں میں کل تیرہ مساجد ہیں جس میں کسی مسجد کے ساتھ پانچ یا چھ اور کسی کے ساتھ بیس یا پچیس تک مکانات ہیں،گاؤں کے کل مکانات ایک جگہ پر متصل نہیں ہے بلکہ کسی جگہ پر دس مکانات اور کسی جگہ پر بیس یا پچیس مکانات متصل ہے،اس کے علاوہ ایک مسجد کے محلہ کے مکانات دوسرے محلے کے مکانات کے درمیان خالی میدان بھی ہےاسی طرح کھیتی باڑی کی زمینیں بھی ہیں اور بعض محلوں  کی آپس میں فرلانگ کا فاصلہ ہےاور درمیان میں بارانی پانی کی ندی بھی ہے لیکن گاؤں کی کل آبادی ناریوا ہ پٹول خیل کے نام سے جانی جاتی ہے،الغرض گاؤں کے کل  رہائشی مکانات   ایک کلو میٹرسے ڈھائی کلو میٹر کے فاصلے پر شرقا غربا بے تر تیبی سے واقع ہے،ہمارے گاؤں میں پولیس سٹیشن ،ہسپتال ،ہائی مڈل اسکول ،ڈاکخانہ اور ریلوے اسٹیشن کی سہولیات موجود نہیں ہے اس کے علاوہ گاؤں میں کوئی میلہ ہفتہ   واربازار نہیں لگتا،ہمارا گاؤں پکی سڑک سے بفاصلہ پانچ کلو میٹر کچی سڑک کا واسطہ ملتا ہے۔ مذکورہ کوائف کی بنیاد پر اس گاؤں میں نماز جمعہ کا حکم کیاہے؟

جواب

 جمعہ کی صحت ِادائیگی  کے لیے دوسری شرائط کے علاوہ ایک شرط مصرہے یاوہ بڑا گاؤں جس میں ضروریات زندگی بھی دستیاب  ہوں ۔مصر کی تعریف میں فقہائے کرام کی آرامختلف چلی آرہی ہیں ،ہر فقیہ نے اپنے زمانہ کے حالات اورعرف کو دیکھ کرمصر کی تعریف کی ہے ۔موجودہ دور میں جس علاقہ کی آبادی دوڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہواور اس میں ضروریات زندگی میسر ہوں تووہ بڑےگاؤں کی تعریف میں داخل ہوگا اوروہاں جمعہ پڑھناجائزہوگا۔

صورت مسؤلہ میں  اس گاؤں کی تعداد بھی کم ہے نیزاس گاؤں میں  ضروریاتِ زندگی بھی دستیاب  نہیں اس لیے یہاں جمعہ کی نماز جائز نہیں  ہے۔

 

لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى " لقوله عليه الصلاة والسلام " لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع۔(الهداية،كتاب الصلوة،باب الجمعة،ج:1،ص:177)


فتویٰ نمبر : 9376/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں