بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

گاؤں وانڈہ سمندی میں نماز جمعہ کا حکم


سوال

گاؤں وانڈہ سمندی  کے چھوٹے بڑے مرد وعورت بچے بچیوں کی تعداد تین ہزار/3000 ہے ۔گاؤں مذکورہ میں مساجد کی تعداد 11ہے،تین دینی مدارس ہیں دو بنین اور ایک بنات کے بنات کی کل تعداد 300 ہے ۔اس میں ستر /70 مسافر طالبات ہیں۔اس گاؤں میں 24 دکانیں ہیں دو گھرانوں والے گھروں میں زنانہ کپڑا لا کر فروخت کرتے ہیں۔جبکہ ان کی مستقل دکانیں نہیں ہے تین ہاتھ کی ریڑیاں ہیں کبھی یہاں کھبی وہاں ریڑی لگاتے ہیں مذکورہ دکانیں متصل نہیں یعنی بازار کی شکل میں نہیں ہےاور نہ دور ہے ،اس  گاؤں میں ڈاکخانہ بھی نہیں ہےاور نہ پولیس تھانہ یاچوکی موجودہےگاؤں وانڈہ سمندی میں ڈاکٹر بھی نہں ہے ملیریا ٹائفائیڈ یادوسرے ٹیسٹوں کے لیے لیبارٹری بھی نہیں ہے اور نہ ہی ایکسرے  کی سہولت موجود ہے اورہمارے گاؤں والے بروز بدھ (بدھ میلہ لنڈیواہ)اوربروز سوموار(مچکی میلہ)جو ضلع کرک میں ہے جاتے ہیں اور سودالاتے ہیں ایک دیسی دوائی کی دکان بھی موجود ہے اس میں حافظ صاحب دیسی دوائی بازار سے لاکر فروخت کرتاہے ۔ایک شمسی اورسولر کی دکان بھی موجود ہے جس میں گیٹس اور کھڑکیاں بھی فروخت ہوتی ہے اوردوموٹر سائیکل ٹھیک کرنے والے دکان بھی موجود ہے ۔آٹاچکی میں آٹا برائے فروخت ملتی ہے عورتوں کی ڈیلوری کیس کے لیے ایک LHVبھی موجود ہےپٹرول بھی گاؤں میں مختلف دکانوں میں بوتلوں کی صورت میں فروخت کیاجاتاہے،ایک گورنمنٹ پرائمری سکول ایک گورنمنٹ ہائی سکول(مردانہ)اورایک  گورنمنٹ پرائمری سکول(زنانہ)بھی موجود ہے۔تین سرکاری ٹیوب ویل بھی ہے جن میں ایک کئی سالوں سے خراب ہے دوسرابجلی نہ ہونے کی وجہ سے بندہے جبکہ ایک شمسی پلانٹ والاٹیوب ویل چالوں ہےجبکہ بجلی عرصہ دوسال سے منقطع ہے کیونکہ لوگ بجلی کابل ادانہیں کرتے ۔گاؤں وانڈہ سمندی میں تینتیس/33پریشر پمپ برائےپانی ہیں۔مکان بنانےوالےپانچ مستری ہیں تین کوچز تین ٹیکسی موٹرکار تین ڈمپر آٹھ ڈاٹسن پانچ ٹریکٹرایک مذدہ چارزرنج ان میں تین کوچز پانچ ڈاٹسن صبح سویرے سرائے نورنگ لکی مروت عیسی خیل جاتے ہیں اورواپسی ظہرکے بعد ہوتی ہے درمیانی عرصہ میں ٹریفک  کی مستقل سہولت نہیں ہے،ترکان مستقل رہائش پذیر ہے جبکہ لوہار باہر سے بروز اتوار آکرکام کرتاہے اورشام کوواپس اپنے گاؤں جاتاہے۔مذکورہ بالا کوائف کی صورت میں وانڈہ سمندی میں نماز جمعہ جائزہےیانہیں حالانکہ ایک امام صاحب ایک مسجد میں چند جمعوں سے نماز جمعہ پڑھارہاہے دلیل یہ دیتاہے کہ فتاوی دارالعلوم دیوبند نے دوہزار آبادی والے گاؤں میں نماز جمعہ جائز قرار دیاہے۔اب ہم ان کے ساتھ نماز جمعہ اداکرےیاظہر کی نماز پڑھیں ؟

جواب

جمعہ کی صحت ِادائیگی  کے لیے دوسری شرائط کے علاوہ ایک شرط مصرہے یاوہ بڑا گاؤں جس میں ضروریات زندگی دستیاب  ہوں ۔مصر کی تعریف میں فقہائے کرام کی آرامختلف چلی آرہی ہیں ،ہر فقیہ نے اپنے زمانہ کے حالات اورعرف کو دیکھ کرمصر کی تعریف کی ہے ۔موجودہ دور میں جس علاقہ کی آبادی دوڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہواور اس میں ضروریات زندگی میسر ہوں تووہ بڑےگاؤں کی تعریف میں داخل ہوگا اوروہاں جمعہ پڑھناجائزہوگا۔

صورت مسؤلہ میں اگر واقعتاگاؤں سمندی کی مردم شماری تقریبا3000افرادپرمشتمل ہونیز ضروریاتِ زندگی بھی دستیاب ہوں تویہاں جمعہ کی نماز جائز ہے۔

 

لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى " لقوله عليه الصلاة والسلام " لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع۔(الهداية،كتاب الصلوة،باب الجمعة،ج:1،ص:177)


فتویٰ نمبر : 9372/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں