بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

بیوی کو دیا گیا مہر اس کی اجازت کے بغیر بیچنا


سوال

اگر ایک آدمی نے عورت سے نکاح کے وقت تین تولہ سونا  مہر رکھ دیااور ادا بھی کیا،پھر چند سال بعد شوہر نے وہ سونا بیچ دیاہو۔اب بیوی کا بیان یہ ہوکہ شوہر نے میری رضامندی کے بغیر اس سونے کو بیچ دیا ہےاور شوہر کہتا ہے کہ میں نے بیوی کی رضا سے یہ کام کیا ہے۔چند سال بعد بیوی کو شوہر نے طلاق مغلظہ دیدی،اب بیوی مہر کا مطالبہ کرتی ہےتو کیا بیوی کو مہر کے مطالبے کا حق حاصل ہے یا نہیں؟اگر مہر کا حق ہے تو پھر تین تولہ سونا ہی دیا جائے گا یا اس کی رقم بھی دی جاسکتی ہے؟ رقم دینے کی صورت میں سونے  کی نکاح کے وقت جو قیمت تھی وہ دی جائے گی یا بیچتے وقت والی؟

جواب

                مہر بیوی کا حق ہےجو  شوہر پر نکاح کے وقت واجب ہوجاتا ہے، چنانچہ نکاح ہوجانے کے بعد اگر اس عورت کے ساتھ یہ شوہر مل چکا ہواور ہم بستری کی ہو یا ایسی ملاقات کی ہو جس میں جماع سے کوئی حسی اور شرعی مانع نہ ہو تواس کی وجہ سے شوہر پر پورے مہر کی ادائیگی لازم ہوگی۔ نیز کسی غیر کا مال اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا حرام ہے، اور مالک کو اس کا مال واپس لوٹانا ضروری ہے، البتہ  اختلاف کی صورت  میں مدعی پر گواہ پیش کرنا لازم ہوگا  اور گواہ نہ ہونے کی صورت   میں مدعی علیہ پر قسم  آئے گی۔نیزاصل یہ ہے کہ قرض کی ادائیگی اس کے مثل سےہو البتہ اگر  جانبین اپنی رضامندی سےقیمت کے ساتھ ادا کرنا چاہیں تو جس قیمت پر دونوں راضی ہوجائیں وہی لازم ہوگی۔

                لہذا صورت مسئولہ کے مطابق  اگر شوہرکی مراد یہ ہو کہ بیوی نے اس کو اپنا مہر  ہبہ کیا ہے جب کہ بیوی اس کا انکار  کررہی ہو تو شوہر پر گواہ پیش کرنا لازم ہوگا،اگر وہ گواہ پیش نہ کرسکے تو بیوی پر قسم آئے گی اور قسم کھا کر  شوہر نےاس سے جو چیز لی تھی وہ اس کے ذمے قرض ہوگا ، اگر سونا لیا تھاتوسونا ہی واپس کرنا اس  پر ضروری ہوگا، اور اگر  بیوی سونے کی قیمت لینے پر راضی ہو تو سونے کی   جس  قیمت پر  باہم رضامندی ہوجائے وہی لازم ہوگی۔

 

وإذا خلا الرجل بامرأته ‌وليس ‌هناك ‌مانع من الوطء ثم طلقها فلها كمال المهر.(الهداية، كتاب النكاح،باب المهر، ج:2، ص:347)

قال: "‌وإذا ‌صحت ‌الدعوى سأل المدعى عليه عنها" لينكشف له وجه الحكم "فإن اعترف قضي عليه بها" لأن الإقرار موجب بنفسه فيأمره بالخروج عنه "وإن أنكر سأل المدعي البينة" لقوله عليه الصلاة والسلام: " ألك بينة؟ " فقال لا، فقال: "لك يمينه" سأل ورتب اليمين على فقد البينة فلا بد من السؤال ليمكنه الاستحلاف. (الهداية، كتاب الدعوى، ج:3، ص:155)

‌أن ‌الشرع ‌أثبت له ولاية أداء القيمة إما تيسيرا عليه وإما نقلا للحق.والتيسير له في الأداء دون الواجب. (بدائع الصنائع، كتاب الزكوة، ج:2، ص:24)

إذا ‌تصالحا على الأكثر لا يلزم الربا؛ لأن ذلك اعتياض عن حقه في العين لا استيفاء لعين حقه بأكثر منه فلا يتحقق الربا. (تبيين الحقائق شرح كنزالدقائق، فصل الصلح جائز عن الدعوى بالمال، ج:5، ص:39)


فتویٰ نمبر : 6598/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں