بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

وصیت کا ما ل دوسرے مصرف میں خرچ کرنا


سوال

اگر کوئی آدمی یہ وصیت کرے کہ میرے مرنے کے بعد میرے ترکہ میں سے تہائی حصہ فلاں مسجد میں خرچ کرو ،تو اس کے  فوت ہو جانے کے بعد کیا وہ مال کسی مدرسہ میں خرچ کیا جا سکتا ہے یا نہیں  ؟جب کہ متعلقہ مسجد میں فی الحال اس کی ضرورت نہ ہو ۔

جواب

               واضح رہے کہ وصیت کرنے والے نے جس مصرف میں خرچ کرنے کی وصیت کی ہوا سی مصرف میں خرچ کرنا لازم ہے۔  

              صورت مسئولہ کے مطابق موصی نے اپنے ترکہ کے تہائی حصہ کو جس  مسجد میں خرچ کرنے کی وصیت کی ہے،اس  متعین مسجد میں خرچ کرنے کی  بجائے کسی مدرسہ میں خرچ کرنے کی اجازت نہیں۔

 

الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ‌ليس ‌للوصي الدفع إلى غيره فتأمل(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الزكوة، ج:2،ص:269)


فتویٰ نمبر : 3403/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں